Mufti Maulana Syed Zia Uddin Naqshbandi Quadri

Shaik-ul-Fiqh - Jamia Nizamia


Abul Hasanaat Islamic Research Center

Mufti Maulana Syed Zia Uddin Naqshbandi Quadri

Shaik-ul-Fiqh - Jamia Nizamia


Abul Hasanaat Islamic Research Center

News

اطاعت رسول دنیا میں آخرت میں کامیابی و سرخروئی کا ذریعہ۔احادیث مبارکہ کے بغیر قرآن فہی ناممکن


اطاعت رسول دنیا میں آخرت میں کامیابی و سرخروئی کا ذریعہ۔احادیث مبارکہ کے بغیر قرآن فہی ناممکن مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی حیدرآباد کا آن لائن خطاب مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اطاعت رسول‘دنیا میں آخرت میں کامیابی اور سرخروئی کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی اور اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے،اس بات کی تلقین کی کہ بندے گناہوں سے بچتے ہوئے‘ طہارت وپاکیزگی کی زندگی اختیار کریں اوروعدہ فرمایا کہ جو‘ ان صفات سے متصف ہوں گے وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالی کی اطاعت کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھا جائے،اسے سمجھا جائے اوراس میں جو حکم دیا جارہا ہے اس کے مطابق زندگی گزاری جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت وتابعداری یہ ہے کہ آپ کی احادیث مبارکہ کو پڑھاجائے،جو آپ نے حکم دیا ہے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔اللہ تعالی کا خوف دل میں رکھتے ہوئے تقوی کے ساتھ زندگی بسر کی جائے۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی نفس وشیطان کے بھکانے سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو بندہ اس پر نادم وپشیمان ہوجاتاہے اور اپنے رب کے حضور ‘توبہ واستغفار کرتا ہے۔ مفتی صاحب نے ’حدیث شریف‘ضروت اور حجیت‘پر دلائل کے ساتھ مفصل خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ انسانی ذہن کبھی شک وشبہ میں پڑجاتا ہے کہ قرآن کریم چونکہ اللہ تعالی کا کلام ہے،اوروہی ہمارے لئے کافی ہے،قرآن کے ہوتے ہوئے حدیث کی کیا ضرورت ہے؟مفتی صاحب نے کہا کہ یہ ایک شیطانی دھوکہ ہے،کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ کوئی شخص احادیث شریفہ کے بغیر قرآن کریم پر عمل نہیں کرسکتا ،اس لئے قرآن کریم میں خود اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر اطاعت رسول کا حکم دیا۔نہ صرف آپ کی اطاعت کا حکم دیا بلکہ آپ کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت قرار دیا۔اب اگر کوئی قرآن کریم پر عمل کرنے کا دعوی کرے تو اس کا دعوی اس وقت تک معتبر نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت نہ کرے۔ احادیث مبارکہ اسلام کا عظیم سرچشمہ اور دین کا عظیم سرمایہ ہے۔ قرآن کریم دستور الہی اور ایک جامع قانون ہے،جس کی تفصیل وتشریح ہمیں احادیث مبارکہ کے ذریعہ ملتی ہے ،ارشاد حق تعالی ہے:اور ائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ پر قرآن کو نازل کیا؛ تاکہ آپ لوگوں کے لئے اسے خوب واضح کردیںجوان کی طرف نازل کیا گیا۔(سورۃ النحل:44) اللہ تعالی کا نظام ہی ایساہے کہ اس نے قرآن کریم براہ راست عوام کو نہیں دیا بلکہ اللہ تعالی نے امت کو بواسطہ رسول قرآن کریم عطا فرمایا۔ اس طرح قرآن کا قرآن ہونا بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان فیض ترجمان سے معلوم ہوا۔گویہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوا کہ ہے کہ قرآن ‘قرآن ہے،اور قرآن سے معلوم ہوا ہے کہ قول رسول‘واجب الایقان ہے۔آپ کی زبان مبارک وحی الہی کا سرچشمہ ہے۔آپ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے،آپ کی زبان مبارک سے جو نکلتا ہے وہ ’وحی الہی‘ہوتاہے،یعنی زبان آپؐکی ہوتی ہے اور کلام‘خدا کا ہوتا ہے۔ دوران خطاب مفتی صاحب نے کہا کہ وہ لوگ جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ’ قرآن کریم ہی ہمارے لئے کافی ہے اور حدیث شریف کی ضرورت نہیں‘ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا وہ کتا، بلی، چیتا، شیر، ببر،بندر اورگدھ کا گوشت کھائیں گے؟اگروہ کہیں کہ یہ جانورحرام ہیں؟توپوچھاجائے گا کہ قرآن میں ان کی حرمت کا بیان‘ کہاں آیا ہے؟بلامحالہ ماننا پڑے گا کہ یہ سب احادیث شریفہ سے ثابت ہے۔اسی طرح مرغی،مرغا،کبوتر کھایاجاتا ہے،قرآن میں ان کے ناموں کے ساتھ ان کے حلال ہونے کا ذکر نہیں،یہ سب احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔اسی لئے ہر بندۂ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ احادیث کریمہ ،سیرت طیبہ کی طرف متوجہ ہو،اس سے پہلو تہی اختیار کرکے کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ہر مسلمان کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور اعتقاد کے تعلق ہے اور اس پردلیل یہی ہوگی کہ دل وجان سے آپ کے اقوال وافعال کو مانا جائے اور اس کے مطابق عمل کیا جائے۔اولیاء کرام وصالحین عظام نے اطاعت رسول کا عملی نمونہ پیش کیا،ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے کہ کیسے ان کے علم وعمل میں یکسانیت تھی،کوئی عمل خداورسول کے احکام ومرضی کے خلاف نہ ہونے دیتے۔وہ نہ صرف اطاعت کرتے رہے بلکہ اس دعوت کو عام کرتے رہے۔انہوں نے احادیث کریمہ کی ترویج واشاعت میں انتہک محنتیں کی ہیں،ان کی مخلصانہ،بے لوث خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔دکن کی عظیم المرتبت ہستی حضرت شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ بانی جامعہ نظامیہ مدت العمر درس وتدیس کا فریضہ انجام دیتے رہے،علم کی اشاعت میں تمام پر وسائل کا استعمال فرمایا۔ مدینہ منورہ سے احادیث شریفہ کا ایک عظیم ذخیرہ‘جو اس وقت تک دنیا نے دیکھا نہ تھا، اپنے ذاتی صرفہ سے نقل کروایا اور حیدرآباد دکن تشریف لاکر ’’دائرۃ المعارف‘‘سے اسے شائع فرمایا۔دکن کے عظیم الشان محدث‘عارف باللہ حضرت ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث شریفہ کا انمول ذخیرہ ’’زجاجۃ المصابیح‘‘کی شکل میں بزبان عربی تالیف فرمائی ،جو پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا بارہ جلدوں میں اردو ترجمہ بنام’نور المصابیح‘دستیاب ہے۔عرب وعجم کے علماء وفضلاء نے زجاجۃ المصابیح کو قدر کے نگاہ سے دیکھتے ہوئے کلمات تحسین اداکئے۔آج بھی وہ کتاب‘علماء،ریسرچ اسکالرس اور مدرسین بالخصوص حنفی محققین کے لئے مشعل راہ ہے۔مدارس وجامعات میں اسے بطور نصاب پڑھایا جاتاہے۔مفتی صاحب نے عوام الناس سے خواہش کی ہے وہ اس بیش بہاذخیرہ سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں علم کا اجالالائیں۔