Mufti Maulana Syed Zia Uddin Naqshbandi Quadri

Shaik-ul-Fiqh - Jamia Nizamia


Abul Hasanaat Islamic Research Center

Mufti Maulana Syed Zia Uddin Naqshbandi Quadri

Shaik-ul-Fiqh - Jamia Nizamia


Abul Hasanaat Islamic Research Center

News

حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ محبتِ رسول سے سرشار اور لذت ایمان سے سرفراز


حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ محبتِ رسول سے سرشار اور لذت ایمان سے سرفراز۔

آپ کی تحریرات'عشق رسول سے معمور

ضیاء ملت حضرت مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم کا لکچر

ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر کے زیر اہتمام مسجد ابو الحسنات پھول باغ جہاں نماحیدرآباد میں توسیعی لکچر منعقدہوا۔

ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری دامت برکاتہم العالیہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر" حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ اور عشق رسول"کے عنوان پرتوسیعی لکچر میں فرمایا کہ بعض چیزیں وہ ہوتی ہیں جن سے انسان کو قلبی لگاؤ اور فطری محبت ہوتی ہے۔

اور بندہ کو اس وقت تک ایمان اور اس کا کمال اور ایمان کی حلاوت ولذت نصیب نہیں ہوتی جب تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی اس کے نزدیک ‘اس کی جان ومال،والدین ورشتہ دار اورجہاں بھر کے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔سورۂ توبہ کی آیت نمبر24میں اللہ تعالی نے آٹھ چیزوں کا ذکر کیا جن سے انسان کو فطری محبت ہوتی ہے اور ان میں باہم الفت رہتی ہے،اور حکم فرمایا کہ ان تمام سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہو،ارشاد حق تعالی ہے: قُلْ إِنْ كَانَ آَبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔

(ترجمہ)(اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم!)آپ فرمادیجئے کہ تمہارے باپ،بیٹے اوربھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے کمایاہے اور وہ کاروبار جس کے نقصان کا تم اندیشہ کرتے ہو اور وہ مکانات جن کو تم پسند کرتے ہو ‘اگر وہ تمہیں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس (اللہ تعالی)کی راہ میں جدوجہد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو ؛یہاں تک کہ اللہ تعالی اپنا حکم(عذاب) لائے۔اور اللہ تعالی نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔(9۔سورۃ التوبۃ،آیت نمبر:24)

صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث شریف ہے:

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد،اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:15)

حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ رحمۃ اللہ علیہ بارگاہ رسول کی مقرب ومقبول ہستی ہیں،آپ محبت رسول سے سرشار اور لذت ایمان سے سرفرازتھے۔وفور محبت اور کمال عشق میں آپ نے وطن عزیز،رشتہ دارواحباب کو چھوڑ کر دیار حبیب کا قصد فرمایا،اور پیوند خاک طیبہ ہونے کی نیت سے وہیں رہ گئے،لیکن بحکم نبوی‘اشاعت علم،تبلیغ اسلام واحسان اور تحفظ عقائد اسلامیہ کے لئے دکن مراجعت فرمائی۔آپ کے عشق رسول ،محبت وفنائیت کا اندازہ اس سے بخوبی ہوتا ہے کہ دوران قیام مدینہ منورہ ‘آپ کے شہزادہ حضرت محمد عبد القدوس رحمۃ اللہ علیہ کا جب انتقال ہوا ،اس وقت حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ خود علیل تھے،آپ کو جب شہزادہ کے انتقال کی خبر دی گئی تو باوجود شدید علالت کے آپ جنازہ کے قریب آئے اورفرمایا:’’بیٹا!اب تم حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کادیدار ہوتو اس وقت میرے آقاکی خدمت میں میرا بھی سلام عرض کرنا‘‘۔

حضرت ضیاء ملت دامت برکاتہم نے فرمایا کہ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کا ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے گہراتعلق تھا،بارگاہ نبوی سے آپ پر پیہم الطاف وعنایات کی بارش ہوا کرتی؛چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ مفتی اول جامعہ نظامیہ’’مطلع الانوار‘‘میں فرماتے ہیں:’’ایک صاحب نے حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ بعض وکلاء اپنی جادو بیانی سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر دکھا سکتے ہیں اور کسی مقدمہ میں حقدار کا وکیل کمزور اور فریق مخالف کا تیز ہو تو وہ آسانی سے آپ کو غلط باور کرانے میں کامیاب ہو جائے گا ’’جواب میں فرمایا :"میں حتی المقدور انصاف کرنے کی کوشش کرتاہوں غیب کاحال اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے۔ اس کے سوا جب میں اجلاس پر بیٹھتا ہوں یا فیصلہ لکھنا شروع کرتا ہوں تو پہلے حضرت سرور دوعالم صلی اللہ علیہ و الہٖ وسلم کی روح پاک کی طرف متوجہ ہو کر عرض کرتا ہوں کہ میں ایک ذرۂ بے مقدار ہوں، میرا معاملہ آپ کے حوالے ہے، جب تک آپ مدد نہ فرمائیں راہِ راست نہیں مل سکتی ‘‘اس کے بعد فیصلہ لکھنے کے لئے قلم اٹھاتا ہوں ‘‘۔(مطلع الانوار،ص:42)

حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ محبت رسول سے ایسے سرشار تھے کہ محبوب علیہ السلام کی شان اقدس میں جب کبھی کوئی بے ادبی کی گئی تو آپ نے معقول ومنقول ہر دو لحاظ سے اس کا بہترین جواب اور اہل باطل کا رد بلیغ فرمایا،گویاآپ اسلام کی سرحد پر کھڑے ہوکرعقیدۂ توحید وناموس رسالت پر پہرا دے رہے تھے۔

جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرح بشر کہتے ہیں ان کی فکر کو صحیح رخ دیتے ہوئے اور ان کے باطل نظریہ کی اصلاح کرتے ہوئے آپ نے فرمایاکہ"انا بشر مثلکم"سے صحابہ نے کیا سمجھا اور فرقہائے باطلہ نے کیا مطلب لیا۔

صحابۂکرام رضي اللہ عنہم قرآن کریم کے مخاطب اول ہیں،کسی صحابی نے کبھی ہمسری اور برابری کا دعوی نہیں کیا،بلکہ ان حضرات نے جب بھی کہا ‘یہی کہا:

إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ۔

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ہم تمام صحابہ مل کر بھی آپ (کی ذات تو کجا)ایک ہیئت وحالت کی طرح بھی نہیں ہوسکتے۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:20)

علاوہ ازیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا:

وَأَيُّكُمْ مِثْلِى۔

تم میں کون میری طرح ہوسکتاہے؟۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:6851)

لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ۔

میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:1961)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے مثل وبے مثال مانتے تھے،یہی وجہ تھی کہ جب آپ وضو فرماتے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے وضو کے پانی اور آب بینی شریف کو زمین پر گرنے نہیں دیتے بلکہ اپنے ہاتھوں میں لے کر جسم پر مل لیتے۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر:2731)

قَالَ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نُخَامَةً إِلاَّ وَقَعَتْ فِى كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ أَىْ قَوْمِ ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ ، وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ وَكِسْرَى وَالنَّجَاشِىِّ وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ ، يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مُحَمَّدًا ، وَاللَّهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلاَّ وَقَعَتْ فِى كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ۔

مسند ابو یعلی میں روایت ہے:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگاکر حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کو وہ خون مبارک دیا اور فرمایا کہ اس کو کسی محفوظ مقام پر رکھ دو،صحابی رسول نے اس خون مبارک کو نوش کرلیا۔(مسند ابو یعلی)

وروى أبو يعلى عن سفينة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم ثم قال: (خذ هذا الدم فادفنه من الدواب والناس) قال: فذهبت فتغيبت فقال لي: (ما صنعت ؟)، قلت: شربته، فتبسم۔

حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا بول مبارک پی لیا۔آپ نے مسکراکر‘ ان سے فرمایا:اے ام ایمن!زندگی بھر کبھی تمہارے پیٹ میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ وروى أبو يعلى عن أم أيمن رضي الله عنها: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فخارة في جانب البيت، فبال فيها فقمت من الليل، وأنا عطشانة فشربت ما فيها وأنا لا أشعر، فلما أصبح النبي صلى الله عليه وسلم قال: (يا أم أيمن قومي فأهريقي ما في تلك الفخارة) قالت: قد والله شربت ما فيها فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه ثم قال: (أما انك لن تشتكي بطنك بعد يومك۔

(مسند ابو یعلی)

حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وہ صحابۂ کرام رضي اللہ عنہم جن کی فضیلت نص قطعی سے ثابت ہے ایسی عظیم المرتبت ہستیاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اشیاء اور آپ کے فضلات مبارکہ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز تر جانتے اور انہیںحصولِ برکت وشفا کا ذریعہ سمجھتے تو بعد میں پیدا ہونے والے توحید کے دعویداریہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرح ہیں؟۔


�