***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 957    برکت والی رات کی ایک نفیس توجیہ
مقام : US,
نام : Md . Kaleem
سوال:    

میرا سوال یہ ہیکہ قرآن کریم کے سورۂ دخان کی آیت کریمہ میں برکت والی رات کا جو ذکرآیا ہے اس سے شب براء ت مراد ہے یا شب قدر ؟ برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے ۔ اللہ حافظ


............................................................................
جواب:    

لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات)کا مصداق ومعنی کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں مفسرین کرام نے دو طرح کے اقوال بیان فرمائے ہیں، بعض نے فرمایا :اس سے شب براء ت مراد ہے اور بعض نے فرمایا شب قدر۔ ان دو اقوال کی تطبیق و جمع میں یہ کہا گیا کہ لیلۃ مبارکۃ کے بارے میں آیا ہے :فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیم ترجمہ:اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ (سورۂ دخان :4) اس سے معلوم ہوا کہ اس مبارک رات میں فیصلے ہوتے ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ فیصلے شعبان کی پندرھویں شب میں ہوتے ہیں اور لیلۃ القدر میں متعلقہ فرشتوں کے حوالے کئے جاتے ہیں۔ پس لیلۃ مبارکۃ کی تفسیر لیلۃ القدر سے کی جائے تو فیصلہ نامہ جات ذمہ داروں کے حوالے کرنے کی رات ہوگی اور شب براء ت سے تفسیرکی جائے تو فیصلے کرنے کی رات مراد ہوگی: عن ابن عباس رضی اللہ عنہما: أن اللہ یقضی الأقضیۃ فی لیلۃ النصف من شعبان، ویسلمہا إلی أربابہا فی لیلۃ القدر. ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیشک اللہ تعالی شب براء ت میں فیصلے فرماتاہے اور شب قدر میں ذمہ داروں کے حوالے فرماتاہے۔ (معالم التنزیل للبغوی،سورۃ الدخان،تفسیر خازن ، سورۃ الدخان،الکشف والبیان للثعلبی) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com