***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 900    حالت نماز میں چھینک آنے پرالحمدللہ کہنا
مقام : مغل پورہ ، انڈیا,
نام : بشریٰ بیگم
سوال:     جب چھینک آتی ہے تو الحمد للہ کہا جاتا ہے۔ اگر حالت نماز میں چھینک آنے پر زبان سے الحمد للہ نکل جائے تو کیا اس کی وجہ سے نماز کودہرانا ہوگا؟  
............................................................................
جواب:     حالت نماز میں قرآن کریم کی تلاوت اوراذکار نماز کے علاوہ زبان سے کچھ نہیں کہنا چاہئے۔ اگر کسی شخص کو حالت نماز میں چھینک آجائے تو وہ زبان سے الحمد للہ نہ کہے۔ دل میں کہہ سکتا ہے تاہم بہتریہ ہے کہ نہ زبان سے کہے اور نہ دل میں، ا گر چھینکنے والا نماز کی حالت میں الحمدللہ کہہ دے تو نماز فاسد نہیں ہوتی اورنماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔  
جیساکہ فتاوی عالمگیری ج 1کتاب الصلوٰۃ،الفصل الاول فیما یفسدص 98میں ہے :ولو عطس فقال لہ المصلی الحمد للہ لا تفسد ۔ ۔ ۔ ولو قال العاطس لا تفسد صلاتہ وینبغی أن یقول فی نفسہ والأحسن ہو السکوت .
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاء الدین نقشبندی عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislamic.com
حیدرآباد،دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com