***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 670    ماہ شعبان کی مصروفیت
مقام : فرسٹ لانسر، حیدرآباد،انڈیا,
نام : شوکت علی
سوال:     شعبان کا مہینہ آچکا ہے ‘ اس مہینہ میں کیا اعمال کرنا چاہئے؟ رمضان سے پہلے کی تیاری کس طرح کرنی چاہئے ؟ اس موقع پر صحابہ کا کیا طریقہ ہواکرتا تھا ؟ وضاحت فرمائیں۔  
............................................................................
جواب:     اس سلسلہ میں الغنیۃ لطالبی طریق الحق ج1 ص 188میں سند کے ساتھ حدیث پاک منقول ہے: وعن انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہ قال کان اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا نظروا الی ھلال شعبان اکبوا علی المصاحف یقرء ونھا واخرج المسلمون زکوۃ اموالھم لیتقوی بھا الضعیف والمسکین علی صیام شہر رمضان و دعا الولاۃ اھل السجن فمن کان علیہ حد اقاموہ علیہ والاخلوا سبیلہ وانطلق التجار فقضوا ما علیھم و قبضوا مالھم حتی اذا نظروا الی ھلال رمضان اغتسلوا واعتکفوا۔
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام جب ماہ شعبان کا چاند دیکھتے تو قرآن شریف کو سینہ سے لگائے رہتے اور تلاوت میں مصروف رہتے ، مسلمان اپنے اموال کی زکاۃ نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین اس کو حاصل کرکے ماہ رمضان کے روزے رکھنے پر قوت حاصل کریں، حکام وذمہ داران ،قیدیوں کو طلب کرتے اور ان میں جوحدشرعی کے مستحق تھے، ان پر حد جاری کرتے، ورنہ ان کورہاکردیتے تاجر حضرات اپنے ذمہ جو حقوق ہیں انہیں ادا کردیتے اور جو چیزیں وصول طلب تھیں انہیں حاصل کرلیتے حتیٰ کہ جب رمضان کاچانددیکھ لیتے تو غسل کرکے اعتکاف کااہتمام کرتے۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
22-07-2010
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com