***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 506    ٹوپی پہننے کا ثبوت
مقام : انڈیا,
نام : محمد کریم
سوال:    

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ٹوپی کے بارے میں یہ جارہا ہے کہ یہ احادیث سے ثابت نہیں ؟ جواب جلد سے جلد عنایت فرمائیں تو مہربانی ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

سرڈھانکنا ،ٹوپی پہننا ، عمامہ باندھنا سنت ہے اوراحادیث شریفہ سے ثابت ہے ،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹوپی پر عمامہ مبارک باندھا کرتے ۔چنانچہ علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 807؁ھ) نے مجمع الزوائد ،ج5، ص121،میں ٹوپی سے متعلق باب قائم کیا ’’ باب فی القلنسوۃ ٹوپی کا بیان ‘‘ اس باب میں انہوں نے طبرانی کے حوالہ سے حدیث پاک ذکر کی ہے :عن ابن عمر قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یلبس قلنسوۃ بیضاء رواہ الطبرانی۔ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید ٹوپی پہنا کرتے۔اور جامع ترمذی شریف ج1، ص308میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے ان فرق مابیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس۔ ترجمہ: یقیناہمارے درمیان اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامے ہیں۔ احادیث شریفہ سے ٹوپی کا ثبوت ملتا ہے اورمعلوم ہوتا ہے کہ عہدنبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام میں ٹوپی کا عام رواج تھا جبکہ نمازکیلئے بطورخاص عمامے کا اہتمام کیا جاتاتھا،جیسا کہ صحیح بخاری شریف ،ج1، کتاب الصلوۃ ،باب السجود علی الثوب فی شدۃ الحر، ص56،میں روایت ہے: وقال الحسن کان القوم یسجدون علی العمامۃ والقلنسوۃ ویداہ فی کمہ۔ترجمہ: تابعی جلیل حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صحابہ کرام (گرمی کی وجہ سے) عمامہ اورٹوپی پر سجد ہ کرتے جب کہ ان کے ہاتھ آستین کے اندر رہتے۔ صحیح بخاری شریف ج1، ابواب العمرۃ، باب ماینہی من الطیب للمحرم والمحرمۃ، ص 248،میں ہے: (حدیث نمبر1838)؛ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے احرام کے کپڑوں سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : لاتلبسوا القمیص ولا السراویلات ولا العمائم ولا البرانس۔ ترجمہ:(احرام کی حالت میں) قمیص مت پہنو ،نہ پائجامے پہنو ،نہ عمامے اور نہ ٹوپیاں۔ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے کہ صحابۂ کرام عموماً ٹوپیاں اور عمامے پہنتے تھے اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی خصوصی حالت میں ٹوپی اور عمامہ پہننے سے منع فرمایا۔ لہذا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ سرڈھانک کر نماز اداکریں ، اس میں کسل مندی اور تساہل کرتے ہوئے سرڈھانکے بغیر نماز ادا کرنا مکروہ ہے ۔ جیسا کہ درمختار ج 1، مکروہات نماز کے بیان میں ص 474، پر ہے:(وکرہ)۔ ۔ ۔ (وصلوتہ حاسرا) ای کاشفا (راسہ للتکاسل)اور ردالمحتار ج1 ،کے اسی صفحہ پرہے: (قولہ للتکاسل) ای لاجل الکسل بان استثقل تغطیتہ ولم یرہا امرا مہما فی الصلوۃ فترکہا لذلک۔ ترجمہ: برہنہ سر نماز پڑھنامکروہ ہے ، یہ نہایت ناپسند یدہ بات ہے کہ سرڈھانکنے کوسستی کی وجہ سے بار سمجھاجائے اور اس کو نماز کا اہمیت والا عمل گمان نہ کیا جائے اوراسے چھوڑ دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com