***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز وتر کے مسائل

Share |
سرخی : f 462    ’’تین رکعات ‘‘نماز وترکا ثبوت
مقام : ریاض,
نام : خلیل عبدالحمید
سوال:    

حنفی مسلک کے حساب سے نماز وتر کی جو تین رکعتیں پڑھی جاتی ہیں مجھے اس کا ثبوت حدیث کے حوالہ سے بتلادیں تو میں آپ کا شکر گذار رہوں گا۔ امید ہے کہ آپ مجھے تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں گے جس سے ہم حنفی مسلک پر عمل کرنے والوں کو اطمینان حاصل ہو۔


............................................................................
جواب:    

نماز وتر تین رکعات ہیں‘ اس کا ثبوت صحاح ستہ اور احادیث شریفہ کے دیگر ذخائر سے ہوتا ہے جیسا کہ جامع ترمذی شریف میں نماز وتر کے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک مذکور ہے عن علی قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلاث۔ ترجمہ: سیدنا علی کرم اللہ وجھہ ورضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعات پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی شریف ‘ باب ماجاء فی الوتر بثلاث ج1ص106) سنن دارقطنی میں روایت مذکور ہے عن عبداللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر اللیل ثلاث کوتر النھار صلوٰۃ المغرب۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :رات میں (نماز عشاء کے بعد پڑھی جانے والی) نماز وتر کی تین رکعات ہیں ‘ جس طرح دن کی وتر نماز مغرب کی تین رکعتیں ہوتی ہیں ۔ (سنن دارقطنی‘ باب الوتر ثلاث کثلاث المغرب‘ حدیث نمبر1672) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com