***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز وتر کے مسائل

Share |
سرخی : f 22    نماز فجر میں قنوت پڑھنا کیساہے؟
مقام : هند,
نام : نذیر احمد
سوال:    

کیا نماز فجر میں قنوت ثابت ہے ؟ وتر میں قنوت کا طریقہ کیا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق نماز فجر میں قنوت نہیں ہے ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے مطابق روزانہ نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھنے کے بعد قنوت پڑھنا مسنون ہے ، جیساکہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج 1،کتاب الصلوۃ ، صلوۃ الوتر وصیغۃ القنوت الواردۃ فیہ، ص 307،میں ہے :۔۔۔۔۔ كما يسن القنوت بعد الرفع من ركوع الثانية في الصبح كل يوم- سنن ابوداؤد شریف میں خود اس صراحت کے ساتھ حدیث پاک ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت صرف ایک ماہ پڑہا ، اس کے بعد آپ نے اسے ترک فرمادیا ، اس طرح نماز فجر میں قنوت پڑھنے پر عمل باقی نہ رہا : عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ- ترجمہ: حضرت انس بن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھا پھر ترک فرمادیا - (سنن ابوداؤد,كتاب الصلاة,باب القنوت في الصلوات, حدیث نمبر:1233) نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا ذکر صحیح بخاری شریف میں آیا : عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ قَالَ نَعَمترجمہ: حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا ، کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں – (صحیح بخاری شریف ، ابواب الوتر، باب القنوت قبل الرکوع وبعدہ، ج1،ص 136، حدیث نمبر:1001) اسی حدیث شریف کی بنا شوافع حضرات نماز فجر میں قنوت پڑھتے ہیں ، ائمہ احناف کے پاس سنن ابوداؤد شریف کی یہ مذکور الصدر حدیث پاک سے یہ منسوخ ہے ، اب اس کا حکم نہیں رہا – اس روایت کی شرح کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ،ج 5،ص 233،پر سنن ابوداؤد میں وارد حدیث شریف سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فرض نمازوں میں قنوت پڑھنا ابتداء میں تھا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا– " ثم تركه" يدل على أن القنوت في الفرائض كان ثم نسخ- - (عمدۃ القاری ، ابواب الوتر، باب القنوت قبل الرکوع وبعدہ،ج 5،ص 233) اب رہا یہ سوال کہ وتر میں قنوت کا کیا طریقہ ہے ؟ فقہ حنفی کے مطابق وتر کی نماز میں قنوت واجب ہے ، تیسری رکعت میں قراءت سے فارغ ہونے کے بعد تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندہ لیں اور قنوت پڑھیں بعد ازاں رکوع کریں جیساکہ فتاوی عالمگیری ، کتاب الصلاۃ ، میں ہے : وَالْقُنُوتُ وَاجِبٌ عَلَى الصَّحِيحِ .كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ إذَا فَرَغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ، وَيَقْنُتُ قَبلَ الرُّكُوعِ فِي جَمِيعِ السَّنَة - (فتاوی عالمگیری ،كتاب الصلاة,الباب الثامن في صلاة الوتر,ج 1,ص 111) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ماہ رمضان کے نصف آخر میں نماز وتر کی آخری رکعت میں قنوت پڑھنا مسنون ہے ،جیساکہ الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج 1،کتاب الصلوۃ ، صلوۃ الوتر وصیغۃ القنوت الواردۃ فیہ، ص 307،میں ہے وتسن فيه الجماعة في شهر رمضان والقنوت في الركعة الاخيرة منه في النصف الثاني من ذلك الشهر-- واللہ اعلم بالصواب – مفتی سید ضیاء الدین ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر –

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com