***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اقامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1380    کیا اقامت کا جواب دینا ضروری ہے ؟
مقام : سکندرآباد ، انڈیا,
نام : ناظم شریف
سوال:     مفتی صاحب ! ہم اذان کی آواز سُن کر اس کا جواب دیتے ہیں لیکن یہ بتلائیں کہ کیا اقامت کا جواب دینا بھی ضروری ہے ؟ حدیث کی روشنی میں جواب دیجئے مہربانی ہوگی۔
............................................................................
جواب:     اقامت کا جواب دینا مستحب ہے ، جس طرح اذان کا جواب دیا جاتاہے اسی طرح اقامت کا جواب بھی دیا جائے ، لیکن جب مؤذن قدقامت الصلوٰۃ کہے تو اس کے جواب میںأَقَامَھَا اللّٰہُ وَأَدَامَھَا کہے ، جیساکہ سنن ابوداؤد میں حدیث مبارک ہے : عن بعض أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم أن بلالا أخذ فی الإقامۃ فلما أن قال قد قامت الصلاۃ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم أقامہا اللہ وأدامہا .
ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے ، جب آپ قدقامت الصلوٰۃ کہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےأَقَامَھَا اللّٰہُ وَأَدَامَھَا (اللہ تعالی نماز کو قائم ودائم رکھے) فرمایا۔ (سنن ابوداؤد، کتاب الصلوٰۃ، باب مایقول اذا سمع الاقامۃ، حدیث نمبر:528)
اور فقہ کی مشہور ومعتبر کتاب ردالمحتار میں ہے :( ویجیب الإقامۃ ) ندبا إجماعا ( کالأذان ) ویقول عند : قد قامت الصلاۃ : أقامہا اللہ وأدامہا۔(ردالمحتار، کتاب الصلوٰۃ، فائدۃ التسلیم بعد الاذان۔)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com