***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اقامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1271    اقامت کے دوران تلاوت کا حکم
مقام : کلیان نگر,
نام : فیصل اقبال
سوال:    

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں ہماری مسجد میں اکثر دیکھتا ہوں کہ اقامت ہوتی ہے اور لوگ باتوں میں مصروف ہوتے ہیں ، اسی طرح ضعیف حضرات کو دیکھتا ہوں کہ وہ اقامت ہوتے وقت بھی قرآن کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں ، اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ کیا اقامت کے وقت تلاوت کرسکتے ہیں ؟


............................................................................
جواب:    

: اقامت کا جواب دینا مستحب ہے ، دوران اقامت گفتگو کرنا اور دیگرکام کرنا مناسب نہیں ، صرف اقامت کا جواب دینا چاہئے ، اور اگر کوئی شخص تلاوت قرآن میں مصروف ہوتو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ وہ اقامت کے وقت تلاوت موقوف کردے ،کلماتِاقامت غور سے سنے اور اس کا جواب دے ۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے :ولا ینبغی أن یتکلم السامع فی خلال الأذان والإقامۃ ولا یشتغل بقراء ۃ القرآن ولا بشیء من الأعمال سوی الإجابۃ ، ولو کان فی القراء ۃ ینبغی أن یقطع ویشتغل بالاستماع والإجابۃ .(فتاوی عالمگیری ، کتاب الصلوٰۃ ، الفصل الثانی فی کلمات الاذان والاقامۃ وکیفیتھما) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com