***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز وتر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1238    وترمیں بھول کردعائے قنوت نہ پڑھیں تو کیا حکم ہے ؟
مقام : کشن باغ حیدرآباد,
نام : محمد تاج علی
سوال:     ایک مسئلہ میرے ساتھ پیش آیا کہ میں وتر کی  تیسری رکعت میں دعاء قنوت پڑھنا بھول گیا اوراخیر میں، میں نے سجدہ سہو کرلیا ،کیا اس سے نماز درست ہوجائے گی؟
............................................................................
جواب:     آپ نے جب دعا ء قنوت بھول کر رکوع میں چلے جانے کے بعدواپس قیام میں گئے بغیرنماز مکمل کی اور آخر میں سجد ہ سہو کرلیا تو آپ کی نماز ازروئے شریعت درست ہوگئی کیونکہ شریعت اسلامیہ کا قانون یہ ہے کہ اگر کوئی شخص وترکی آخری رکعت میں دعاء قنوت پڑھے بغیر رکوع کرلے تو چونکہ قنوت پڑھنے کا محل فوت ہو چکا ہے اس لئے قنوت پڑھنے کے لئے دوبارہ وہ قیام کی طرف نہ لوٹے  اوراپنی نمازبدستور جاری رکھے، البتہ سجدہ سہوکرلے ۔ در مختارج 1،کتاب الصلوۃ،باب الوتروالنوافل ص 495،میں ہے:
(ولونسیھ) ای القنوت (ثم تذکرہ فی الرکوع لایقنت ) فیھ لفوات محلھ (ولایعود الی القیام ) فی الاصح لان فیھ رفض الفرض للواجب (فان عاد الیھ وقنت ولم یعد الرکوع لم تفسد صلوتھ) لکون رکوعھ بعد قراء ۃ تامۃ(وسجدللسھو)۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com