***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز وتر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1164    قنوت کے وقت ہاتھ اٹھانے کا حکم
مقام : جدہ,
نام : نبیل احمد
سوال:    

السلام علیکم حضور! برائے کرم بتائیے کہ نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنے سے پہلے تکبیر کہہ کر ہاتھ اٹھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ فرض ہے‘ واجب یا پھر سنت؟ برائے کرم اس پر دلائل دیجئے‘ جزاک اللہ خیراً کثیراً۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ! نماز وتر کی تیسری رکعت میں قنوت سے پہلے تکبیر کہنا واجب ہے اور تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا سنت ہے، مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے : عن عبد الرحمن بن الاسود عن أبیہ أن عبد اللہ بن مسعود کان إذا فرغ من القراء ۃ کبر ثم قنت فإذا فرغ من القنوت کبر ثم رکع ۔۔۔۔عن عبد الرحمن بن الاسود عن أبیہ عن عبد اللہ أنہ کان یرفع یدیہ فی قنوت الوتر- ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ (نماز وتر میں ) جب قراء ت مکمل کرتے تو تکبیر کہتے پھر قنوت پڑھتے اور دوسری روایت میں اس بات کی صراحت ہے کہ قنوت وتر کی تکبیر کے وقت کانوں تک اپنے ہاتھ اٹھاتے۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ‘ ج2، ص206) علامہ ابن عابدین شامی نے صراحت کی ہے کہ قنوت سے پہلے تکبیر کہنا واجب ہے اور تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں واجبات الصلاۃکے تحت ہے: وَالثَّامِنَ عَشَرَ وَالتَّاسِعَ عَشَرَ تَکْبِیرَۃُ الْقُنُوتِ وَتَکْبِیرَۃُ رُکُوعِہِ (ردالمحتار ج1 ،کتاب الصلاۃ، واجبات الصلاۃ) نیز رد المحتار میں وتر کے بیان کے تحت مذکور ہے: (قَوْلُہُ وَیُکَبِّرُ) أَیْ وُجُوبًا وَفِیہِ قَوْلَانِ کَمَا مَرَّ فِی الْوَاجِبَاتِ ، وَقَدَّمْنَا ہُنَاکَ عَنْ الْبَحْرِ أَنَّہُ یَنْبَغِی تَرْجِیحُ عَدَمِہِ ( قَوْلُہُ رَافِعًا یَدَیْہِ ) أَیْ سُنَّۃً إلَی حِذَاءِ أُذُنَیْہِ کَتَکْبِیرَۃِ الْإِحْرَامِ (ردالمحتار ج1 ،کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com