AR 510 : اسلام حقوق انسانی کامحافظ

اسلام حقوق انسانی کامحافظ

آج دنیا کرب واضطراب کے دور سے گزررہی ہے،انسان خود انسانیت کا دشمن ہوگیا ہے،خودغرضی،مفاد پرستی کے سوا کوئی چیز پیش نظر نہ رہی،ہر شخص کو اپنی پرتعیش زندگی اور ذاتی مفاد عزیز ہے، انسانیت کے تقدس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے۔

اسلام نے تمام انسانوں کے لئے یکساں حقوق بیان کئے ہیں،اس نے حقوق کے سلسلہ میں انسانوں کے درمیان نہ مذہب،زبان اور علاقہ کی تفریق رکھی ہے اور نہ ہی تہذیب ،رنگ ونسل کی بنیاد پر حقوق میں امتیاز رکھا،اس نے سارے اعتبارات کا خاتمہ کرکے تمام انسانوں کے لئے ایک ہی قانون وضع کیا۔

قیام امن اور دفع ضرر کے لئے سزائیں مقرر کی گئیں تو سب کے لئے ایک ہی حکم ہے،ایسانہیں کہ مسلمان کے لئے رعایت ہے اور غیر مسلم کے لئے سزا۔

حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کو روانہ کرتے تواس بات کی تاکید فرماتے کہ جوتم سے برسرپیکار نہیں اس پر حملہ نہ کرنا!، بوڑھوں،ضعیفوں،بچوں اور عورتوں پر حملہ نہ کیا جائے!گرجاگھر،عبادت خانوں میں رہنے والوں کو نہ ماراجائے،دشمن کے علاقہ کے جانوروں کو نہ مارا جائے، نہ ان کے درخت کاٹے جائیں اور نہ ہی کھیتیاں تباہ کی جائیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق کا اس طرح لحاظ رکھا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اسلام یہ کہتا ہے کہ غیر مسلموں کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور ملک کے باشندے ہونے کی حیثیت سے ان پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گیں جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں۔

اسلام نے بچہ پیداہونے سے لے کر مرنے تک ‘ عمر کے تمام مراحل کے حقوق بتلائے ہیں،شیرخوار‘اپنے حقوق کا مطالبہ تو کجا جو‘ ابھی بات بھی نہیں کرسکتا ‘اسلام نے اس کے لئے بھی حقوق متعین کردئے ہیں۔

آج مسلمان تشدد کا شکار ہیں،ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا جائزہ لینا ہوگا!جب تک ہم اپنا محاسبہ نہیں کریں گے ہمیں پیشوائی نہیں مل سکتی۔

حقوق انسانی کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتا چلے گا کہ انسانی حقوق بیان کرنے اور اس کے قانون کو وضع کرنے میں اولین ذات گرامی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔

آپ نے تکریم انسانیت کا درس دیا،انسانی اقدار کا تحفظ کیا،سب کو بحیثیت انسان مساویانہ حق دیا۔

اسلام کے عطا کردہ انسانی حقوق وقوانین کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مستقل، مقدس اور ناقابل تنسیخ وترمیم ہے۔

اسلام نے ایک فرد کے ناحق قتل کئے جانے کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا،اور ایک جان کی حفاظت کو تمام انسانی جانوں کی حفاظت قرار دیا۔

دہشت گردی صرف یہی نہیں کہ کسی کو قتل کیا جائے بلکہ ناحق کسی کو تکلیف پہنچانا،ستانا،مارنا،زبان سے اذیت پہنچانا یہ سب دہشت گردی ہی کے درجات ہیں،ان میں سب سے زیادہ سنگین یہ ہے کہ کسی کا قتل کردیا جائے۔

دہشت گردی اور اسلام دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں،انسانی اقدار اور اس کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں محسن کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پردرد آواز کسی کی نہیں،آپ نے تمام انسانوں کی عزت وناموس کو قابل قدر قرار دیا ،اخوت وایثار،ہمدردی اور ضرورت مندوں کی اعانت کا حکم فرمایا،آپ نے حق زندگی ،حق معاش،حق مساوات عطا کئے اور خواتین وغلاموں کے حقوق بھی بیان فرمائے۔

آج ہر طرف اضطراب کی کیفیت ہے،انسانی خون پانی سے زیادہ ارزاں نظر آرہا ہے،ایسے وقت انسانی حقوق کا تحفظ ،اسلامی تعلیمات اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات سے دنیا کو روشناس کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انسانیت کو اس کا حق دیا جائے،کوئی غلام ومملوک بن کر پیدا نہیں ہوتا،اللہ تعالی نے ہر ایک کو آزاد پیدا کیا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی اذیتوں سے دوسرے محفوظ رہیں۔

مدارس اور خانقاہیں امن وسلامتی کے مراکز ہیں،جہاں علوم کی تبلیغ اور روحانیت کی ترسیل ہوتی ہے، ان سے وابستہ ہوکر امن کے پیغام کو عام کیا جائے۔

اسلام نے حقوق انسانی کو مسلمہ واجبات قرار دیا ہے،صحت ابدان کو صحت ادیان پر مقدم رکھاہے۔

اسلام کے بیان کردہ حقوق میں گہرائی واحاطہ ہے۔مغرب کے بیان کردہ حقوق‘ انسانوں کے تشکیل کردہ ہیں ،اور انسانی علم وادراک ناقص بھی ہے اور محدود بھی؛جبکہ اسلام کے بیان کردہ حقوق کا مصدر ومنبع کتاب وسنت ہے،وہ اللہ تعالی کے عطا کردہ ہیں،خدائے تعالی کا علم لا محدود ہے۔

مغرب کے بیان کردہ حقوق میں محرمات واخلاقیات کے لئے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی،قانون کون نافذ کرے گا‘ اس کی صراحت نہیں اور نہ ہی حقوق کی حفاظت کا نظم کیا گیا ۔

فرد کی آزادی کا یہ مطلب رکھا گیا کہ جب تک کسی دوسرے شخص کو ضرر نہ ہو‘انسان اپنے کام میں آزاد ہے،وہ خودکشی بھی کرسکتا،وہ شراب پئیے،قمار بازی کرے یا برہنہ گھومے۔

مغرب کے وضع کردہ قوانین وحقوق کسی نہ کسی حادثہ یا جنگ کی پیداوار ہے جبکہ اسلام کے وضع کردہ حقوق مقاصد شریعت کی تکمیل کے لئے ہے۔




submit

  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved