AR 505 : امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار

امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ رشد وہدایت کے عظیم مینار اورحق صداقت کے معیار ہیں،وہ جدھرہوتے ہیں حق ادھر ہوتا ہے۔

امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا کربلا تشریف لے جانا کسی دنیوی غرض یا سیاسی نوعیت کا ہرگز نہ تھا،بلکہ آپ نے  میدان کربلاء میں دین کے تحفظ اوراسلام کی بقاکے لئے بے مثال قربانی پیش کی، سنگین حالات اوردشوارکن لمحات میں بھی باطل سے ہرگزسمجھوتہ نہیں کیا۔

میدان کارزار میں آپ نے حر سے مخاطب ہوکر فرمایا:یزیدیوں نے شیطان کی اطاعت کو لازم کرلیا اور خدائے رحمن کی اطاعت کو چھوڑ دیا ،فسادمچایا جارہاہے،مشترکہ مال میں من چاہا تصرف کیا جارہا ہے،اسلامی حدود پامال کئے جارہے ہیں،معصیت کا بازار گرم ہے اور شرعی حد کے نفاذ کے ذریعہ برائی پر کوئی روک نہیں لگائی جاتی،اللہ تعالی کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کیا جارہا ہے اور اس کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کیا جارہاہے۔ایسے باطل نظام کو بدلنے کے سلسلہ میںسب سے زیادہ میرا حق ہے کہ میں اس کے خلاف آواز اٹھاؤں،میں کسی بھی صورت میں باطل سے سمجھوتا نہیں کرسکتا۔یہ سن کر حرنے کہا-جو ابھی تک یزیدی لشکر میں تھے،بعد میں وہ امام عالی مقام کے جاں نثاروں میں شامل ہوئے اور سب سے پہلے جام شہادت نوش کیا-اس وقت اگر آپ دشمن کی جانب اقدام کریں یا دشمن آپ پر پہل کرے‘ہر صورت میں آپ ہی شہید ہوں گے!یہ سن کر امام عالی مقام  رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا تم مجھے موت سے ڈرانا چاہتے ہو؟۔امام عالی مقام رضي اللہ عنہ نے اپنے تمام قرابت داروں دوستوں اور غلا موں سے فرمایا :میں تم سے خوش،خدااور رسول تم سے خوش ۔میں یہاں سے نہیں جاسکتا ،تم سب کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں ۔تم سب یہاں سے چلے جاؤ،میرے ساتھ تم جان مت کھپاؤ۔سبھوں نے عرض کیا:اگر آج ہم آپ کو دشمنوں کے نرغہ میں بے کس وبے بس چھوڑجائیں گے تو‘ کل خداو رسول کو کیا منہ دکھائیں گے ؟پہلے ہم سب آپ پر قربان ہوں گے تب کہیں آپ کی باری آئے گی۔

 امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے ہرستم ،ہر جفاگواراکیا لیکن باطل کو لمحہ بھر کے لئے قبول نہ کیا۔

یزید نے حاکم مدینہ منورہ کے پاس پیغام پرپیغام بھیجا کہ فوری امام حسین  رضی اللہ عنہ سے یزید کے حق میں بیعت لی جائے ،اگر آپ بیعت نہ کریں تو آپ کو شہید کردیا جائے،یزید کے اعمال بد کے سبب امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے بیعت قبول نہیں کی؛کیونکہ یزید وہ ہے جس نے عدل وانصاف کے ساتھ چلنے والے اسلامی نظام میں رخنہ ڈالنے والا اور سنتوں کو بدلنے والاتھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ایسے حکمرانوں پر لعنت قرار دی ہے جواقتدار کی بنیاد پر فساد اور دہشت مچاتے ہیں ،رشتہ درایوں کو کاٹتے ہیں۔

 




submit

  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved