AR 504 : امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت

امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت

     اسلام کی سربلندی اور دین کی بقا کے لئے جو حضرات اپنے مال،اولاد اور جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں ان کی اخروی زندگی بڑی شان والی ہوتی ہے،قرآن کریم میں اللہ تعالی نے شہداء کرام کو مردہ کہنے بلکہ مردہ سمجھنے سے بھی منع کیا ہے ،فرمایا کہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے خوان کرم سے رزق پاتے ہیں،تمہیں ان کی حیات کا شعور نہیں۔

نواسۂ رسول،شہزادۂ بتول ،سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ‘شہادت عظمی ہے۔

آپ نے  میدان کربلاء میں دین کے تحفظ اوراسلام کی بقاکے لئے بے مثال قربانی پیش کی، سنگین حالات اوردشوارکن لمحات میں بھی باطل سے ہرگزسمجھوتہ نہیں کیا۔اعوان وانصار کی شہادت،چھ ماہ کے شیر خوار حضرت علی اصغر  رضی اللہ عنہ کی شہادت،نوجوان شہزادے اور بھتیجے حضرت علی اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی شہادت ،تین دن کی سخت پیاس،دشمنوں کامحاصرہ،لشکر اعداء کی کثرت اور مظالم کی انتہانے آپ کے عزم وہمت میں رمق برابر فرق نہ لاسکے،آپ صبر واستقامت کے عظیم پیکر بنے رہے۔تقدیر الہی وفیصلۂ خداوندی پر آپ صابر وشاکر رہے۔تسلیم ورضاکے اس مقام پر آپ فائز تھے کہ سانحۂ کربلاکوسرے سے ٹالنے کے لئے کرامات کا استعمال نہیں فرمایا۔آپ کی حقانیت وصداقت کے اظہارکے لئے قدرت کی طرف جنگ سے پہلے ہی بعض یزیدیوں کو انفرادی سزدی گئی،مگر شقاوت ایسے غالب تھی کہ انہوں نے عبرت حاصل نہیں کی۔

ابن اشعث نامی ایک شخص نے کہا:اے حسین!کیا بات ہے ،ہمیشہ اللہ رسول کو پکارتے رہتے ہو،رسول اللہ  صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کی کیا قرابت ہے؟کیوں ڈینگیں ماررہے ہو؟یہ سن کر آپ نے عرض کیا:یااللہ!یہ کیا کہہ رہاہے؟آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور ضرورت کا تقاضا ہوا،گھوڑے سے اتر کر رفع حاجت کے لئے بیٹھاہی تھا کہ اسے ایک سیاہ بچھو نے ڈنک مارا،ڈنک مارتے ہی اس کو ایسا سخت زہر چڑھا کہ بول وبراز میں لوٹ پوٹ کرمرگیا۔

آپ کی قربانیاں بارگاہ رب العزت میں ایسی مقبول ہوئی کہ دین اسلام کو حیات ملی ،باطل پسا ہوا،اور اللہ تعالی نے آپ کے نام زندہ رکھا،دنیا کے ہر حصہ میں مسلمان اپنے بچوں کا نام’’حسن‘‘اور ’’حسین‘‘رکھتے ہیں اور ان مبارک ناموں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

حضرات حسنین کریمین کے نام بھی اس شان والے ہیں کہ اللہ تعالی انہیں حجاب میں رکھا،حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے لے کر حضرات حسنین کریمین کی ولادت تک کسی کا نام ’’حسن‘‘اور’’حسین‘‘نہیں ہوا۔

یہ دونوں نام جنت سے اتارے گئے ہیں۔

حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیں :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!میں نے آج رات ایک خوف ناک خواب دیکھا ہے، سرکار نے ارشاد فرمایا :آپ نے کیا خواب دیکھا؟ عرض کرنے لگیں:وہ بہت ہی فکر کا باعث ہے ،آپ نے ارشادفرمایا:وہ کیا ہے؟ عرض کرنے لگیں : میں نے دیکھا گویا آپ کے جسد اطہر سے ایک ٹکڑا کاٹ دیا گیا اور میری گود میں رکھ دیا گیا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:آپ نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، ان شاء اللہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صاحبزادے تو لد ہوں گے اوروہ آپ کی گود میں آئیں گے،وہ فرماتی ہیں چنانچہ ایساہی ہوا،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ تولد ہوئے اوروہ میری گود میں آئے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی ، پھر ایک روز میں آپ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئی  حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آپ کی خدمت بابرکت میں پیش کیاپھرکیا دیکھتی ہوں کہ آپ کے چشمان اقدس اشکبار ہیں، یہ دیکھ کر میں نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان !اشکباری کا سبب کیاہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا :جبرئیل علیہ السلام نے میری خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:عنقریب میری امت کے کچھ لوگ میرے اس شہزادہ کو شہید کریں گے۔

  میں نے عرض کیا:سرکار!کیاوہ اس شہزادے کو شہید کریں گے؟سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ہاں!او ر جبرئیل امین علیہ السلام نے اس مقام کی سرخ مٹی میری خدمت میں پیش کی ۔

 




submit

  AR: 514   
قرآن کریم کے ہم پر حقوق
..........................................
  AR: 513   
استغفار تمام پریشانیوں کا حل
..........................................
  AR: 512   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 511   
تحفظ شریعت ملت کی اولین ذمہ داری
..........................................
  AR: 510   
اسلام حقوق انسانی کامحافظ
..........................................
  AR: 509   
تعلیمات حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ
..........................................
  AR: 508   
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ عظمت و جلالت
..........................................
  AR: 507   
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت اور مقبولیت
..........................................
  AR: 506   
قرآن کریم تمام علوم کا سرچشمہ
..........................................
  AR: 505   
امام حسین رشدوہدایت کے مینار اور حق صداقت کے معیار
..........................................
  AR: 504   
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت و استقامت
..........................................
  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved