AR 494 : رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ

رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ

     کم وبیش آٹھ دہوں سے ملت اسلامیہ دکن کی علمی و دینی رہنمائی کے منصب جلیلہ کی ذمہ داری سنبھالنے والے گھر انوں میں حضرت علامہ سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ  ، صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ کا خاندان نمایاں حیثیت کا حامل ہے ، حضرت والا مرتبت کے والد بزرگوار استاذ العلماء و المشائخ حضرت علامہ مولانا سید شاہ ابراہیم ادیب رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ کے قابل فخر شاگرد ہیں۔

ولادت :

 حضرت صدرالشیوخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ماہ مارچ کی 17/تاریخ 1930؁کو حضرت علامہ سید ابراہیم ادیب رضوی  رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے علمی وعملی گھرانے میں آنکھ کھولی، جہاں کے شب وروز،دینی اذکار واسلامی افکار سے مملوتھے ،جس گھر کےدرودیوار سے عرفان واحسان کے سوتے پھوٹتے تھے اور جہاں علوم وفنون کا سورج اپنی پوری توانائیوں ضیاء پاشیوں سے حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے ایوان ہائے علم وادب کو تابندہ درخشندہ کررہا تھا۔

     تعلیم وتربیت:

 حضرت صدرالشیوخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم حضرت علامہ سید شاہ ابراہیم ادیب رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے حاصل کی ۔
بعدازاں مرکز علوم وفنون ہمنام مدرسہ بغداد’’ مدرسہ نظامیہ حیدرآباد‘‘ میں اعلیٰ تعلیم کی تحصیل وتکمیل کے لئے داخل کروائے گئے ۔
جہاں سے درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے مولوی، مولوی عالم ،مولوی فاضل ، اور مولوی کامل التفسیر (عربی) کی سند حاصل فرمائی ۔جامعہ نظامیہ میں آپ کا ذریعہ تعلیم شہرۂ آفاق نصاب ’’درس نظامی‘‘رہا ، اس کے علاوہ سلطنت آصفیہ کے ساتویں حکمران نواب میر عثمان علی خان بہادر کی قائم کردہ عثمانیہ یونیورسٹی سے(
M.A Arabic)کی ڈگری حاصل کی ۔
     اساتذہ کرام :
تعلیم وتربیت اور اصلاح وتعمیر کے سلسلہ میں معلمین ومربین کا اوصاف عالیہ اور اخلاق حسنہ سے متصف ہونا ضروری ہے، ورنہ تعلیم وتربیت کے تمام ذرائع ووسائل حتی کہ حکیمانہ طریقے بھی سود مند اور موثر نہیں ہوسکتے ۔
الحمد للہ حضرت صدرالشیوخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جن اساتذئہ کرام کے سا منے زانوئے علم وادب تہ کیا تھاوہ اخلاص وللہیت نصیحت وموعظت ، دلی محبت، ہمدردی اور خیرخواہی کا پیکر تھے، جوعلوم ظاہری کے ساتھ ساتھ علوم باطنی میں بھی کمال رکھتے تھے۔
ان کا قول وفعل ، ریاکاری ، تصنع اور نفاق جیسے عیوب سے پاک اور درد وسوز میں ڈوبا ہوا تھا ،اصلاح وتربیت کے نازک اور اہم مراحل میں اپنے تلامذہ کے جذبات ونفسیات کا خیال رکھتے ہوئے توازن واعتدال کے ساتھ ان کی تعلیم وتربیت فرمایا کرتے تھے۔
جن عالی مرتبت اساتذہ کرام نے فراخ دلی کے ساتھ اپنے علوم ومعارف کے خزانے حضرت صدرالشیوخ کے سینہ میں منتقل فرمائے ان میں :

(1) خود آپ کے والد گرامی مرتبت حضرت علامہ سید شاہ ابراہیم ادیب رضوی رحمۃ اللہ علیہ (1377/1295)

(2)جامع علوم ظاہر ی و باطنی افضل العلماء حضرت ابوالخیر وابوالفضل سیدشاہ مفتی محمد مخدوم حسینی قادری چشتی نظامی رحمۃ اللہ علیہ سابق مفتی صدارت العالیہ و جامعہ نظامیہ حیدرآباد(1364ھ)

(3)علامہ زماں حضرت مولانا سید محمود قادری المعروف ابوالوفاء الافغانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ (1395/1310ھ1975ء)

(4)جامع منقول ومعقول ، مزکی اذہان وعقول حضرت علامہ مفتی محمد عبدالحمید رحمۃ اللہ علیہ (1978/1906ء)سابق شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ ، ورکن آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ-

(5) پیکر علم وعمل مفتی بے بدل حضرت علامہ مفتی مخدوم بیگ رحمہ اللہ (م1957ء)سابق مفتی جامعہ نظامیہ حیدرآباد شامل ہیں۔
ان جلیل القدر اور قابل علماء کرام سے آپ نے مشہور زمانہ ’’درس نظامی ‘‘کی تکمیل فرمائی ۔
بیعت وخلافت :
حضرت صدرالشیوخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو اپنے والدگرامی سے بیعت وخلافت حاصل ہے ، آپ چاروں سلاسل طریقت قادریہ ، چشتیہ ، نقشبندیہ ، سہروردیہ کے اجازت یافتہ ہیں۔
آپ نے علوم باطنی کے حصول کے بعد عملی مجاہدات کے ذریعہ تزکیہ، تصفیہ، وتجلیہ کے مراحل طے کئے ۔
حیدرآباد اور بیرون ملک آپ کے ہزاروں مرید ین ومتوسلین ، جو آپ کی ہدایات وارشادات کے مطابق جادہ شریعت وطریقت اور اطاعتِ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خدمت خلق کے راستہ پر گامزن ہیں۔
آپ کو تفسیر ، حدیث ، فقہ ، علم کلام ، معقولات ومنقولات ، عربی ادب تصوف اور تاریخ اسلام پر دسترس خاص حاصل تھا۔
آپ  کےعلمی تبحر، قرآن فہمی کا عالم یہ تھا کہ دس سال تک بلاناغہ جامع مسجد افضل گنج میں کل ہند مرکزی مجلس اہل سنت وجماعت کے مرکزی دینی اجتماع میں ہراتوار صبح قرآن پاک کی بصیرت افروز تفسیر بیان فرماتےرہے ہیں، دس سال کے اس طویل عرصہ میں حضرت قبلہ نے صرف پارہ" الم" کی تفسیر بیان فرمائی ، درس میں شریک رہنے والے حضرات کا بیان ہے کہ آپ کے درس تفسیر میں ایک عجیب کیفیت ولطف رہتا ہے ، نورانیت چھائی رہتی ہے اور ہم دنیا ومافیہا سے بے خبر ہوجاتے ۔
مزید لکھتے  ہیں کہ ’’ یہ حضرت قبلہ کی توجہ اور کمال علم کا نتیجہ ہے کہ کل ہند مرکزی مجلس اہل سنت وجماعت اپنے دس سال مکمل کر سکی اور مرکزی دینی اجتماع دس سال کے طویل عرصہ سے جاری ہے ورنہ بادی النظر میں کوئی تنظیم اور اجتماع اتنا طویل عرصہ طئے کرے محال ہے ‘‘(انوار سنت ’’ ص100/99)
(خصوصی مجلہ بہ موقع تکمیل دس سال مرکزی مجلس اہلسنت والجماعت حیدرآباد(جنوری 1994)
حج وزیارت :
آپ نے دومرتبہ حج بیت اللہ اور دیار حبیب پاک صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم میں حاضری کی سعادت حاصل کی ۔
پہلی مرتبہ 1981ء میں جب کہ حضرت مخدومہ محترمہ استاذنی ماں صاحبہ مدظلہا آپ کے ہمراہ تھیں ۔
دوسری مرتبہ1992ء میں حکومت سعودی عرب کی دعوت پر سرکاری مہمان کی حیثیت سے حج وزیارت کی سعادت سے مشرف ہوئے ، دورانِ حج آپ نے عربی زبان میں ایک قصید ہ نظم فرماکر عربی ادیبوں کے عالمی نمائدہ اجتماع میں سنایا جسے سعودی ٹیلی ویژن نے نمایاں طور پر پیش کیا ۔
جس پر عہدیداران وزارت اوقاف علماء وادباء ، عوام نے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کیا اور سعودی عرب کے ایک کثیر الاشاعت مجلہ ’’التضامن الاسلامی‘‘ 1404ھ نے اس قصیدہ کو اپنے خصوصی شمارہ میں شائع کیا ۔
صدرِ جمہوریہ ہندایوارڈ :
حضرت صدرالشیوخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ایک طرف درس وتدریس میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھر پور اور اعلی مظاہر ہ فرماتے تو دوسری طرف وعظ ونصیحت اور رشد وہدایت کی انجمن کو روشنی بخشتے اور تصوف ومعرفت کے ادق مسائل کو مسکراتے ہوئے اپنے خاص انداز میں حل فرمادیتے ۔ تیسری طرف آپ نے علم وفن کی شمع روشن کی ۔عربی کے علاوہ اردو زبان وادب کے ایوان کو اپنے گرانقدر مضامین و مقالات ، تصنیفات واشعار سے درخشندہ وتابندہ کیا ۔
چنانچہ آپ کی چالیس سالہ علمی ادبی تحقیقی قومی خدمات کا حکومت آندھراپردیش نے نہ صرف اعتراف کیا بلکہ صدر جمہوریہ ہند عزت مآب جناب ڈاکٹر شنکر دیال شرما کے ہاتھوں‘‘ خصوصی ایوارڈ ‘‘ دیا، یہ اہم تقریب جس میں عہدیدارانِ حکومت اور معززین شہر جمع تھے 2/نومبر 1996ء کو راشٹرپتی نیلائم ،سکندرآباد میں منعقد ہوئی۔

(ملخص از:مقدمہ مقالات طاہر)

www.ziaislamic.com




submit

  AR: 503   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
..........................................
  AR: 502   
راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضيلت
..........................................
  AR: 501   
لیلۃ الجائزۃ (انعام والی رات)
..........................................
  AR: 500   
اعتکاف احکام ومسائل
..........................................
  AR: 499   
تذکرہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا
..........................................
  AR: 498   
ماہ رمضان المبارک کی فضیلت وعظمت پرمشتمل پچیس 25 احادیث شریفہ
..........................................
  AR: 497   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 496   
روزہ فوائد وثمرات
..........................................
  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved