AR 493 : غزوۂبدر،ایک مطالعہ

غزوۂبدر،ایک مطالعہ

غزوۂ بدر:

      بدر ایک قریہ کا نام ہے جو مدینہ طیبہ سے تقریباً(193)کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے ۔

     ہجرت کے دوسرے سال، 12 رمضان المبارک بروز دوشنبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین سو تیرہ (313)صحابہ کرام کے ہمراہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے -جن میں ساٹھ (60) مہاجر صحابہ کرام اور دوسوترپن (253) انصار تھے، امن عالم اور تحفظ انسانیت اور اعلائِ کلمۃ الحق کے لئے کوچ کئے ہوئے اس قافلہ کے ساتھ صرف تین(3)گھوڑے اور ستر(70) اونٹ تھے باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیادہ تھے۔

(سیرت ابن ھشام ۔ ج1۔ص664)

 فضائل اہل بدر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین

صحیح بخاری ومسلم میں حدیث مبارک ہے :

فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔۔۔ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ.

ترجمہ:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غزوہ بدر میں شریک ہونے والے ایک صحابی سے متعلق ارشادفرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوئے ہیں‘ تمہیں کیا خبر!یقینا  اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر توجہ خاص فرمائی ‘ارشاد فرمایاتم جو چاہو کرو‘ تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی اور ایک روایت میں ہے کہ میں تم کو بخش دیا ہوں۔

(صحیح بخاری، باب غَزْوَةِ الْفَتْحِ، حدیث نمبر: 4274 - صحیح مسلم، باب من فضائل أهل بدر رضى الله عنهم، حدیث نمبر:6557)

صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے :

عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ قَالَ مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - قَالَ وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلاَئِكَةِ .

ترجمہ:سیدنا معاذ بن رفاعہ ابن رافع رضی اللہ عنہ اپنے والدحضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ہے‘آپ نے فرمایا : حضرت جبریل امین علیہ السلام ‘حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضرہوکر عرض کئے : آپ حضرات اہل بدر کوکیسا شمار کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: مسلمانوں میں سب سے افضل ،یا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی اور بات ارشاد فرمائی‘حضرت جبریل علیہ السلام  نے عرض کیا :اسی طرح فرشتوں میںوہ فرشتے افضل ہیں جو بدر میں حاضر ہوئے۔

(بخاری، باب شهود الملائكة بدرا، حدیث نمبر:3992)

انسانی مساوات کا بہترین نمونہ:۔ ۔ ۔ ﴾

     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر تین صحابہ کے لئے ایک اونٹ مقرر فرمایا ، جس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں باری باری سوار ہونے کا حکم فرمایا حتیٰ کہ آپ نے اپنی سواری مبارک کو بھی اپنے لئے خاص نہیں فرمایا ۔

     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ساری انسانیت کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے، آپ نے مساوات انسانی کا ایک عظیم درس دیا کہ آپ نے اپنی مبارک سواری  پر بھی باری باری سوار ہونے کی تجویز فرمائی جیسا کہ دیگر سواریوں سے متعلق حکم فرمایا ، کیونکہ اس نورانی قافلہ کی روانگی کا مقصد ہی یہ تھا کہ باطل کی ہٹ دھرمی ، گمراہی و حق تلفی ختم کی جائے ، حق کا پرچم بلند کیا جائے ، عدل و انصاف اور مساوات انسانی کاپیغام عام کیا جائے۔

میدان بدر میں تائید الہی:۔ ۔ ۔ ﴾

     باطل پرستوں نے جنگ کے لئے تمام اسلحہ فراہم کئے اور مسلح ہوکر میدان بدر پہنچے جن کی تعداد ایک ہزار تھی،جن کے پاس اونٹوں کے علاوہ سو (100) گھوڑے تھے۔

     نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں بڑے عجز و نیاز سے دعا کی ، اسی وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ  بِاَلْفٍ  مِّنَ الْمَلٰٓئِکَةِ  مُرْدِفِیْنَ۔

     ترجمہ : یاد کرو جب تم فریاد کررہے تھے تو اس (اللہ تعالیٰ)نے تمہاری فریاد سن لی (اور یہ ارشاد فرمایا)یقینا میں تمہاری ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ مدد کروں گا جو پے درپے آنے والے ہیں۔

(سورۃ الانفال،آیت:9)

     اور سورۂ اٰل عمرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

      وَلَقَدْ  نَصَرَکُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ  فَاتَّقُوااللّٰهَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔ اِذْتَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّکْفِیَکُمْ اَنْ  یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمْ  بِثَلٰثَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ مُنْزَلِیْنَ۔ بَلٰيٓ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَیَاْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمْ بِخَمْسَةِ  اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَةِ  مُسَوِّمِیْنَ ۔

     ترجمہ :اور بیشک اللہ تعالی نے بدر میں تمہاری مدد کی جبکہ تم بے سروسامان تھے ، تو اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار رہو، جب آپ مؤمنوں سے فرمارہے تھے کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں ؟ کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے اُتار کر تمہاری مدد کرے ، ہاں ! کیوں نہیں اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اوروہ تم پر فورًا حملہ آور ہوجائیں تو تمہارا رب پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔

(سورۂ اٰل عمرآن ، آیت :123تا125 )

     پھر اس معرکۂ حق و باطل کا آغاز ہوا، اللہ تعالیٰ نے حق کو کامیابی سے ہمکنار فرمایا اور باطل کو شکست و ذلت کا سامنا کرنا پڑا، باطل پرستوں میں (70) افراد مارے گئے اور ستر(70) قیدی بنالئے گئے۔

     باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے چودہ (14)صحابۂ کرام کو شہادت نصیب ہوئی جن میں چھ(6)مہاجر صحابۂکرام تھے اور آٹھ(8)انصار تھے۔

شہداء بدرکے نام-رضی اللہ عنہم-

مہاجر صحابہ کرام کے نام

(1)حضرت عبید بن حارث رضی اللہ عنہ

(2)حضرت عمیر بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ

(3)حضرت ذو الشمالین عمیر بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ

(4)حضرت عاقل بن ابو بکیر رضی اللہ عنہ

(5)حضرت مہجع رضی اللہ عنہ

(6)حضرت صفوان بن حارث رضی اللہ عنہ

انصار صحابہ کرام کے نام

(7)حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ

(8)حضرت مبشر بن عبد المننذر رضی اللہ عنہ

(9)حضرت حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ

(10)حضرت معوذ بن عفراء  رضی اللہ عنہ

(11)حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ

(12)حضرت رافع بن معلی رضی اللہ عنہ

(13)حضرت عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ

(14)حضرت یزید بن حارث رضی اللہ عنہ

(المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی)

 جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل اسلام کے کاروان امن کو فتح و نصرت عطا فرمائی تو قرب و جوار کی تمام باطل طاقتیں پست ہمت ہوگئیں۔

بدر کے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کا بے مثال نمونہ :۔ ۔ ۔ ﴾

     میدانِ بدر میں پکڑے گئے قیدیوں کو جب حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے سب سے پہلے ان کے قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور ان قیدیوں کو اپنے وفاء شعار صحابہ کرام کے درمیان بانٹ دیا اور یہ تاکید فرمائی کہ ان قیدیوں کا مکمل خیال رکھا جائے ، حسب استطاعت ان کے آرام اور قیام و طعام کا انتظام کیا جائے ۔

     ابو عزیز -جو اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے- نامی ایک قیدی کا بیان ہے کہ جب مجھے مدینہ منورہ میں ایک انصاری صحابی کے حوالہ کیا گیا تو میں نے حسن سلوک کی ایک عظیم مثال دیکھی کہ انصاری صحابی کے گھر والے کھجوروں کے کچھ حصہ پر اکتفاء کرتے اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے پیش نظر مجھے روٹی کھلاتے ،میں انہیں روٹی تناول کرنے کے لئے اصرار کرتا لیکن وہ ہرگز روٹی تناول نہ کرتے۔ بعد میں اُن کو فدیہ کے بدلہ رہا کروالیا گیا ۔ اسلام کی عظمت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و عنایت اور آپ کے پیکر اطاعت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر لوگ دامنِاسلام سے وابستہ ہوتے گئے۔

     آج کل اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے کہ مذہب اسلام ایک سخت اور پرتشدد مذہب ہے لیکن بدر کے قیدیوں کے ساتھ جو حسن معاملہ کیا گیا اگر دنیا اس پر غور کرلے تو مذہب اسلام کی امن پسندی ، عدل و انصاف اور مساواتِ انسانی سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی اور اسلام کے تعلق سے کئے گئے شکوک و شبہات یکسر ختم ہوجائیں گے۔

     انسانیت کے ساتھ کئے گئے عفو و درگزر ، رحمت و الفت کے واقعات میں یہ ہے کہ جب جنگ بدر کے قیدیوں کو بحفاظت و سلامتی فدیہ کے عوض چھوڑدیا گیا، ان کے ساتھ اتنا بہترین سلوک کیا گیا جس سے متاثر ہوکر وہ اسلام کی صداقت و حقانیت کے معترف ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ کی بدولت کئی ایک غیرمسلم حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ، جو قیدی فدیہ دینے سے عاجز تھے ان سے کہا گیا کہ ان کے پاس جو علوم و فنون ہیں انہیں اوروں کو سکھلائیں ؛ اس کے بدلے انہیں رہا کردیا جائے گا، انہوں نے جب غیر تعلیم یافتہ وغیر ہنر مند افراد کو اپنے پاس موجود علم وہنر سے آراستہ کردیا تو انہیں باعزت رہا کردیا گیا۔

جس کی جو مرنے کی جا ٹہراتے وہ مرتا وہیں:۔ ۔ ۔ ﴾

     اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اولین و آخرین کے تمام علوم عطاء فرمائے کہ آپ کی نگاہ اقدس سے گزشتہ زمانہ میں اور حال ومستقبل میں پیش آنے والے تمام حوادث و واقعات ، احوال و کیفیات مخفی نہیں ، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے وقوع پذیر ہونے سے قبل ہی ارشاد فرمایا کہ قسم بخدا ! میں اس وقت بھی بدر کے مقتولوں کے قتل کی جگہ دیکھ رہا ہوں ۔

     حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو زمین پر رکھ کر ارشاد فرمایا: یہ فلاں شخص کی ہلاکت کی جگہ ہے‘ یہ فلاں شخص کی ہلاکت کی جگہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے مرنے کی جس جگہ نشاندہی فرمائی تھی کسی کی نعش اس جگہ سے تھوڑی بھی آگے نہیں پائی گئی۔

(صحیح مسلم ،ج 2۔ص102، کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ بدر ، حدیث نمبر: 7402/4721۔ شرح مواہب زرقانی، ج 2، ص 304)

جتنے تھے اصحاب سب یہ جانتے تھے بالیقیں

کہ ہیں واقف‘موت سے ہر اک بشر کی شاہ دیں

بلکہ تأخیر أجل چاہیں تو کچھ دقّت نہیں

جس کی جو مرنے کی جا ٹہراتے وہ مرتا وہیں

(حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ ) 

اجازتِ حبیب پاک ﷺ کے بغیر واپس نہ آنا :۔ ۔ ۔ ﴾

     علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن سعد اور ابوشیخ کے حوالہ سے تفسیر مظہری میں حدیث پاک ذکر فرمائی :جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر سے فارغ ہوئے تو جبرئیل علیہ السلام سرخ گھوڑی پر سوار ‘ جنگی لباس پہنے ہوئے ‘ نیزہ ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے پیکر حمد و ثنا اور لائقِ ہرستائش و خوبی حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم !بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور یہ حکم فرمایا ہے کہ میں آپ کے پاس سے اس وقت تک نہ جاؤں جب تک آپ مجھ سے راضی نہ ہوجائیں ، حضور ! کیا آپ مجھ سے راضی ہیں ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہاں! میں راضی ہوں، تب جبرئیل علیہ السلام واپس ہوئے ۔

 (طبقات کبریٰ، ابن سعد ،ج1ص26،غزوۃ بدر ۔ تفسیرمظہری ، ج1،ص 1449، سورۃ الانفال ، آیت :9)

از:ضیاء ملت حضرت علامہ مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com




submit

  AR: 495   
عشرۂ ذی الحجہ فضائل واحکام
..........................................
  AR: 494   
رئیس العلماء حضرت علامہ مولانا سید شاہ طاہر رضوی قادری نجفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ
..........................................
  AR: 493   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 492   
رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
..........................................
  AR: 491   
حسن اخلاق کی تعلیم اور اسلام
..........................................
  AR: 490   
حسد کی تباہ کاریاں اور اس کے نقصانات
..........................................
  AR: 489   
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآَوَى کی نفیس تفسیر
..........................................
  AR: 488   
حدیث زيارت 'علماء ومحدثین کی نظر میں
..........................................
  AR: 487   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حج
..........................................
  AR: 486   
حج کے اقسام:
..........................................
  AR: 485   
حج ایک عظیم فریضہ،استطاعت کے باوجود ترک کرنے پر سخت وعید
..........................................
  AR: 484   
حج ایک اسلامی فریضہ
..........................................
  AR: 483   
کامیاب کون؟
..........................................
  AR: 482   
عمر رفتہ کا ہر لمحہ قابل قدر
..........................................
  AR: 480   
ارشادات وفرمودات‘حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ
..........................................
  AR: 479   
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
..........................................
  AR: 478   
غزوۂبدر،ایک مطالعہ
..........................................
  AR: 477   
"روزہ" حقیقت اور مقصدیت
..........................................
  AR: 476   
قرآن کریم کی تلاوت کے آداب
..........................................
  AR: 475   
دعاء اور اس کی قسمیں
..........................................
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved