حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل و مناقب
 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل و مناقب

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنْ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی سَیِّدِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ،وَعَلٰی آلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاہِرِیْنْ، وَاَصْحَابِہِ الْاَکْرَمِیْنَ اَجْمَعِیْنْ،وَعَلٰی مَنْ اَحَبَّہُمْ وَتَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنْ۔

اَمَّا بَعْدُ! فاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

وَالَّذِی جَٓاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُ ولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ۔صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمْ۔(سورۃ الزمر۔33)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام ورسل عظام کو شان نبوت ورسالت کے ساتھ دنیا میں جلوہ گرفرمایا او رانہیں ساری کائنات میں سب سے افضل واعلی بنایا، ان نفوس قدسیہ کے بعد فضیلت واولویت کے بارے میں حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سر فہر ست ہیں ، کیونکہ انہیں رب العالمین نے خاتم الانبیاء اما م المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت بافیض سے مشرف فرمایا، انہیں بحالت ایمان سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیدار کا سنہرا موقع عنایت فرمایا۔

سیدی شیخ الاسلام حضرت بانی جامعہ نظامیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مسند فردوس دیلمی کے حوالہ سے روایت نقل فرمائی ہے:

اِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ فَلَمْ یَجِدْ قَلْبًا اَنْقٰی مِنْ اَصْحَابِیْ وَلِذٰلِکَ اخْتَارَہُمْ فَجَعَلَہُمْ اَصْحَابًا فَمَا اسْتَحْسَنُوْا فَہُوَ عِنْدَ اللہِ حَسَنٌ وَمَا اسْتَقْبَحُوْا فَھُوَ عِنْدَ اللّٰہِ قَبِیْحٌ۔

ترجمہ:بیشک اللہ تعالی نے تمام بندوں پر نظر انتخاب ڈالی اور میرے صحابہ سے بڑھ کر پاکیزہ دل کسی کے نہ پایا تو ان کو منتخب کیا اور میرا صحابی بنادیا۔ اب وہ جسے اچھا سمجھیں وہ اللہ تعالی کے پاس بھی اچھا ہے اور وہ جسے بُرا سمجھیں وہ اللہ کے پاس بھی بُرا ہے ۔ (مسند فردوس دیلمی )

اہل سنت وجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں ، آپ کے فضائل وکمالات بے شمارہیں ، قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ آپ کی شان میں نازل ہوئیں ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَالَّذِی جَٓاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُ ولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ۔

اورجونبی سچی بات لیکر آئے اور جس نے ان کی تصدیق کی،وہی لوگ پرہیزگار ہیں ۔ (سورۃ الزمر:33)

امام فخرالدین رازی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :

ان المراد شخص واحد فالذی جاء بالصدق محمد،والذی صدق بہ ہو ابو بکر،وہذا القول مروی عن علی بن ابی طالب علیہ السلام وجماعۃ من المفسرین رضی اللہ عنہم۔

اس سے مراد ایک ہی ہستی ہیں ، تو جو سچی بات لے کر آئے وہ سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جس نے آپ کی تصدیق کی وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔اور یہ روایت حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اور مفسرین کرام رحمہم اللہ کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے۔

(التفسیر الکبیر،الدر المنثور، روح البیان، سورۃالزمر۔ 33)

اسی طرح مختلف مواقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کی فضیلت کا اظہار فرمایا، اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اتھاہ وارفتگی اور اٹوٹ وابستگی کی بنیاد پر حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اپنے درمیان حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہر اعتبار سے افضل ومقدم اور اولی وبہترجانتے اور مانتے تھے۔

ولادت باسعادت

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے تقریبا دوسال چار ماہ بعد ہوئی۔ (الاکمال فی اسماء الرجال)

جب آپ کی ولادت ہوئی اسی وقت سے آپ کا مقام ومرتبہ آشکار ہونے لگا بارگاہ الہی سے آپ کی بلندی درجات کے جلوے ہویدا ہونے لگے ، رب العالمین نے آپ کی ولادت کے ساتھ محبتوں کے سلسلہ کو آپ سے جوڑدیا اور آپ کے چاہنے والوں کو جنت کی ضمانت عطا فرمائی، حدیث شریف میں وارد ہے ، حافظ ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

لَمَّاوُلِدَ اَبُوبَکْرٍ الصِّدِیقُ اَقْبَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی جَنَّۃِ عَدْنٍ فَقَالَ وَعِزَّتِی وَ جَلَالِی لَااُدْخِلُکِ اِلَّا مَنْ یُّحِبُّ ہٰذَا الْمَولُودَ۔

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیشگی والی جنت سے مخاطب ہوکر فرمایا : مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! اے جنت !میں تجھ میں انہی خوش نصیبوں کو داخل کرونگا جو اس نومولود سے محبت کرنے والے ہونگے ۔(مختصر تاریخ دمشق ،ج13،ص69)

نام مبارک او رالقاب شریفہ

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی حضرت عبداللہ بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے ، آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی حضرت ابوقحافہ عثمان بن عامر رضی اللہ عنہ ہے اور آپ کی والدۂ ماجدہ کا نام مبارک حضرت ام الخیر سلمی رضی اللہ عنہا ہے۔

آپ کے القاب مبارکہ میں صدیق بہت مشہور ہے، کیونکہ یہ مبارک لقب آپ کو کسی مخلوق نے نہیں دیا ،بلکہ خالق کائنات نے عطا فرمایا، جیسا کہ سنن دیلمی میں حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

یَا أَبَابَکْرٍ اِنَّ اللّٰہَ سَمَّاکَ الصَّدِّیقَ۔

ترجمہ:اے ابوبکر!اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام صدیق رکھا ہے ۔

(کنز العمال ، حرف الفاء ، فضل ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ،حدیث نمبر:32615)

���� ابھی آپ نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان حق ترجمان سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صداقت کا تذکرہ سنا ، اب آئیے امام الاولیاء کی زبان فیض ترجمان سے سماعت فرمائیے!حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے ارشاد فرمایا:

لَاَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اسْمَ اَبِی بَکْرٍ مِنَ السَّمَاءِ ’’ الصِّدِّیقَ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام ’’ صدیق‘‘ آسمان سے نازل فرمایا ہے۔

(مختصر تاریخ دمشق ، ج ،13،ص52)

آپ کو صدیق کے مبارک لقب سے اس لئے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے بلا کسی تامل سب سے پہلے معجزۂ معراج کی برملا تصدیق کی، جیساکہ مستدرک علی الصحیحین اور تاریخ الخلفاء میں روایت ہے:

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت جاء المشرکون إلی أبی بکر فقالوا ہل لک إلی صاحبک یزعم أنہ أسری بہ اللیلۃ إلی بیت المقدس قال أو قال ذلک؟ قالوا نعم فقال لقد صدق إنی لأصدقہ بأبعد من ذلک بخبر السماء غدوۃ وروحۃ فلذلک سمی الصدیق ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ شب معراج کے اگلے دن مشرکین مکہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا ، اپنے صاحب کی اب بھی تصدیق کروگے ؟ ، انہوں نے دعوٰی کیا ہے"راتوں رات بیت المقدس کی سیر کرآئے ہیں "ابوبکر صدیق نے کہا:"بیشک آپ نے سچ فرمایا ہے ، میں تو صبح وشام اس سے بھی اہم امور کی تصدیق کرتا ہوں "۔ اس واقعہ سے آپ کا لقب صدیق مشہور ہوگیا۔

(تاریخ الخلفاء ص،11)

���� اسی طرح آپ کا ایک لقب ’’عتیق‘‘ بھی مشہور ہے ،جس کے معنی ’’آزاد‘‘ کے ہیں ، حضرت ابوالحسنات سید عبد اللہ شاہ صاحب نقشبندی مجددی قادری محدث دکن علیہ الرحمہ نے جامع ترمذی کے حوالہ سے زجاجۃ المصابیح میں آپ کا لقب عتیق ہونے کی وجہ تسمیہ سے متعلق ایک روایت نقل فرمائی:

عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ اَبَابَکْرٍ دَخَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اَ نْتَ عَتِیقُ اللّٰہِ مِنَ النَّار۔

ام المومنین سید تنا عائشہ صدیقہ رضی تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تم من جانب اللہ ناردوزخ سے آزادہو، فَیوْمَئِذٍ سُمِّیَ عَتِیْقًا۔

اسی دن سے آپ کو عتیق کہا جانے لگا ۔

(زجاجۃ المصابیح ، کتاب المناقب ، ج5،ص248۔ جامع الترمذی، ابواب المناقب ، باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر:3612)

قوم کا ملجاوماوی

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ہیں ،اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ نے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کی ، سرداران قریش آپ کی عظمتوں کا اعتراف کیا کرتے تھے اور اپنے اہم معاملات میں آپ سے قیمتی آراء لیا کرتے تھے ، حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وَکَانَ مِنْ رُؤَسَاءِ قُرَیْشٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَاَہْلِ مُشَاوَرَتِہِمْ وَمُحَبَّبًا فِیْہِمْ وَاَعْلَمَ لِمَعَالِمِہِمْ ۔

ترجمہ:حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار سرداران قریش سے تھا، آپ انہیں مشورے دینے والوں میں تھے، ان میں آپ کی شخصیت نہایت محبوب تھی اور آپ ان کے معاملات کو بہتر طور پر جاننے والے تھے ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اوّلیت

اعلان نبوت سے قبل بھی آپ سرورکونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چاہنے والوں اور رفیقوں میں شامل رہے اور جب بعثت کا اعلان ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وصحبہ وسلم کی ذات والا صفات پر سب سے پہلے آپ ہی نے ایمان لایا ، جبکہ صاحبزادوں اور نونہالوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت مولائے کائنات سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں اور خواتین میں حضرت ام المومنین سیدتنا خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا مشرف بہ اسلام ہوئیں ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلے ایمان لانے والے کون ہیں ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشعار نہیں سنے!

اذاتذکرت شجوا من اخی ثقۃ

فاذکر اخاک ابابکر بما فعلا

خیر البریۃ اتقاھا واعدلہا

بعدالنبی واوفاہا بما حملا

والثانی التالی المحمود مشہدہ

واول الناس ممن صدق الرسلا

والثانی اثنین فی الغار المنیف وقد

طاف العدو بہ إذ صعدوا الجبلا

وکان حب رسول اللہ قد علموا

خیر البریۃ لم یعدل بہ رجلا

جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یا د کرنے لگو تو اپنے بھائی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارناموں کو یاد کرلینا۔

جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انبیاء کرام کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں ،ونیز ذمہ داری میں سب سے زیادہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ہیں ۔

���� حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے یار غار ، ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہنے والے اور مخلوق میں قابل تعریف ہیں ‘ اور سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں ۔

(الاستیعاب، ج1ص294، حاشیۃ الزرقانی علی المواہب، ج1، ص445)

���� اس بلند پہاڑ پر واقع غار میں دو معزز شخصیات میں سے دوسرے آپ ہی تھے ؛ جب کہ پہاڑی پر چڑھنے کے بعددشمن غار کے اردگر د منڈلانے لگے ۔

��� جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں ، سب کو معلوم ہے کہ آپ تمام مخلوق میں (انبیاء کے بعد) سب سے بہتر ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو آپ کے برابر نہیں قرار دیاہے ۔(الاستیعاب،ج،ص295)

���� سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسے بیان کرنے اور آپ کے سماعت فرمانے سے اس کی ثقاہت واہمیت محتاج بیان نہیں ۔

صدیق اکبر کی منقبت سنناسنت مصطفی

���� حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں ، سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا:ہل قلت فی ابی بکر شیئا؟

ترجمہ:کیا ابوبکر کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے؟ عرض کی ہاں ! پھر آپ نے مذکورہ بالا اشعار سنائے۔

فسرالنبی بذلک فقال احسنت یاحسان۔

اشعار سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار مسرت کیا او رفرمایا اے حسان !تم نے خوب کہا۔(الاستیعاب،ج،ص295)

���� کنزالعمال میں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل وانا اسمع۔

ترجمہ:صدیق کی منقبت کہو میں سننا چاہتا ہوں ،حضرت حسان بن ثابت منقبت سناچکے توحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خوش ہوگئے ،اورمسکراہٹ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے حسان!تم نے سچ کہا ہے واقعی صدیق ایسے ہی ہیں جیسے تم نے بیان کیا۔

فضحک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ وقال: "صدقت یا حسان"! ہو کما قلت (کنزالعمال ،حدیث نمبر35673)

اس روایت سے ثابت ہوا کہ "نعت" کی طرح منقبت صدیق اکبر کی سماعت بھی سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور منقبت سنانا سنت صحابہ ہے نیز حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی مدح سرائی پر اظہار مسرت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے ۔

اسلام کے لئے حضرت صدیق کا انتخاب‘ آسمانی انتخاب

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا بڑا عجیب واقعہ ہے، ابھی حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا اعلان نہیں فرمایا تھا ، اس وقت آپ نے ایک خواب دیکھا تو کسی راہب نے اس کی تعبیریہ کہی کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت وجلوہ گری کا عہد مسعود قریب آچکا ہے اور تمہارے مقدر میں یہ سعادت لکھ دی گئی کہ تم ان پر ایمان لانے والے ہو،جیسا کہ سبل الہدی والرشاد میں ہے:

انہ رأی رویا قبل،وذلک انہ رأی القمر نزل الی مکۃ ثم راہ قد تفرق علی جمیع منازل مکۃ وبیوتہا فدخل فی کل بیت شعبۃ،ثم کان جمیعہ فی حجرہ ، فقصہا علی بعض اہل الکتابین فعبرھا لہ بان النبی صلی اللہ علیہ وسلم المنتظر قداظل زمانہ ، اتبعہ وتکون اسعد الناس بہ ، فلما دعاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یتوقف۔

اعلان نبوت سے قبل آپ نے ایک عجیب خواب دیکھا ، وہ یہ کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ چودھویں کا چاند جو مکہ مکرمہ کی طرف اترنے لگا ، اس کا نور مکہ شریف کے ہر مقام اور تمام گھروں�� میں پھیل گیا، پھر یہ چاند سمٹ کر چمکتا ہوا آپ کی گود میں آگیا ، تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خواب اہل کتاب کے ایک عالم کو سنایا تو اس نے تعبیر دی کہ وہ نبی محتشم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جن کی آمد کا انتظار ہے ، ان کے ظہور کا زمانہ قریب آچکا ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ان سے وابستگی کی سعادت حاصل کرنے والے ہو، چنانچہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ نے کچھ توقف نہ کیا (اور مشرف بہ اسلام ہوگئے)۔

(سبل الہدی والرشاد ،ج2ص303)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی استقامت

���� جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لے آئے تو کفار مکہ مظالم ڈھانے لگے ، آپ کو مصائب ومشکلات میں ڈالا جانے لگا ، تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جانے لگیں ، اورآپ کو عبادتوں سے روکا گیا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دولت خانہ میںعبادت وریاضت کیا کرتے او رتلاوت کلام مجید فرمایا کرتے ، کفار یہ بھی برداشت نہ کرسکے ، آپ کو اتنا ستایا اور تکلیفیں دیں ، ستم کی انتہاء ہوگئی، اسی وجہ سے آپ نے مکہ مکرمہ چھوڑنے کا ارادہ کرلیا اور حبشہ کی طرف ہجرت کے ارادہ سے تشریف لے جانے لگے ، حضرت ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : جب راستہ میں ابن دغنہ جو ایک مشہور قبیلہ قارہ کا سردار تھا ، آپ سے ملا اور دریافت کیا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے تفصیل بیان کی تو وہ کہنے لگا :

فَإِنَّکَ تَکْسِبُ الْمَعْدُومَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ ، وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ ۔

ترجمہ:بے شک آپ تو ناداروں کو کماکر دیتے ہیں ، صلہ رحمی کرتے ہیں ،کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں ،مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں آنے والی مصیبتوں کے موقع پر مددکرتے ہیں۔یہ کہہ کر ا س نے آپ کو واپس چلنے کے لئے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کو تو مکہ مکرمہ میں رہنا چاہئے ، چلئے میں آپ کو امان دیتا ہوں او رمکہ مکرمہ پہنچ کر اس نے اعلان کردیا کہ آج سے میں ابوبکر کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں ، لیکن بعد میں حق کی راہ میں ایسی رکاوٹیں آنے لگیں کہ ابن دغنہ آپ کی حفاظت کا وعدہ توڑدیا۔ (صحیح البخاری ، کتاب الکفالۃ ، باب جوارابی بکر فی عہدالنبی وعقدہ ، حدیث نمبر:2297)

ابن دغنہ نے جن صفات سے آپ کو یاد کیا ان تمام صفات کا تعلق حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاکیزہ عادات واطوار سے تھا، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نزول وحی کے آغاز کے بعد جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تفصیل بتائی تو آپ نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو انہی صفات کا تذکرہ کرکے تسلی دی تھی ، بارگاہ رسالت میں حضوری اور صحبت بافیض سے مشرف ہونے کی وجہ یہ تمام خصائل حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں رچ بس گئیں ۔

میدان عمل کے پیشرو شہ سوار

���� حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہمیشہ یہی معاملہ رہا کہ کبھی آپ نے کوئی نیکی کرنے میں غفلت نہ کی، بلکہ ہمیشہ اس میںسبقت فرمایا کرتے، یہی وجہ ہے کہ آپ ابوبکر کی کنیت سے مشہور ہوگئے ہے، دراصل"بکر" کے معنی ابتداء وآغاز کے ہیں اور ابوبکر کے معنی پہل کرنے والے‘ اوّلیت رکھنے والے کے ہوتے ہیں ، اسم بامسمی آپ نیکی کے کام میں پہل فرماتے، خیر میں اوّلیت حاصل کرتے ، بھلائی کے کرنے میں سبقت لے جاتے اور ہر کار خیر کو بخوبی انجام دیا کرتے، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے:

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِمًا . قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا. قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً . قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا. قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِینًا . قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا.قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیضًا . قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ مَا اجْتَمَعْنَ فِی امْرِئٍ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ .

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں وہ کون شخص ہے جس نے آج روزہ رکھا؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:میں !حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : تم میں وہ کون شخص ہے جس نے آج جنازہ کو کندھا دیا ؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں ! حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : تم میں وہ کون شخص ہے جس نے آج مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں !حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : تم میںآج کس نے مریض کی عیادت کی؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں !تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :یہ (خصلتیں ) جس کسی میں جمع ہوجائیں وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی بکر الصدیق ، حدیث نمبر: 6333)

���� آپ کی مساعی جمیلہ اور کاوشوں کے ذریعہ کئی افراد مشرف بہ اسلام ہوئے،راہ خدا میں آپ اپنا مال بے دریغ خرچ فرمایاکرتے،ایک موقع پر چالیس ہزار اشرفیاں راہ خدا میں اس طرح خرچ فرمائیں کہ دن میں دس ہزار ،رات میں دس ہزار،پوشیدہ طورپر دس ہزار ، اور لوگوں کو ترغیب دلانے کی خاطر علانیہ طورپر دس ہزار ، آپ کا یہ عمل بارگاہ الہی میں اس قدر مقبول ہوا کہ اللہ تعالی نے آپ کی مدح وتوصیف میں آیت کریمہ نازل فرمائی،ارشادباری تعالی ہے:

الَّذِینَ یُنْفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُونَ۔

ترجمہ:وہ لوگ جو اپنے مال کو رات اور دن میں ، پوشیدہ اور علانیہ طورپر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لئے ان کے رب کیپاس ان کااجر ہے،ان پر نہ کوئی خوف ہیاورنہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

(سورۃ البقرۃ274)

���� امیہ بن خلف نے جب حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر مظالم کی انتہاء کردی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے آدھا سیر سونے کے بدلہ آپ کو خرید کرآزاد کیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے والدنے "جو ابھی مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے"کہا کہ اسقدر کثیر صرفہ سے کمزورافراد کو آزاد کروانے کے بجائے کسی طاقتور شخص کو آزاد کرواؤ، تاکہ مصیبت کے وقت وہ ہمارا معاون و مددگار رہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ میں نے یہ عمل کسی دنیوی بدلہ کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے حصول کے لئے کیاہے،آپ کی خلوص نیت اور عمل کی پاکیزگی کاتذکرہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس طرح فرمایا:

وَسَیُجَنَّبُہَا الْأَتْقَی الَّذِی یُؤْتِی مَالَہُ یَتَزَکَّی وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَہُ مِنْ نِعْمَۃٍ تُجْزَی إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْأَعْلَی وَلَسَوْفَ یَرْضَی۔

اور یقینا اسے (جہنم)سے دوررکھا جائے گاجو سب سے بڑاپرہیزگارہے،جو اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ پاک ہو،اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا بدلہ دیاجائے،وہ صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جوسب سے بلند ہے اوربے شک وہ راضی ہوگا۔(سورۃ اللیل 17/21)

بروز حشر شان صدیقی

���� جنت میں ہرنیکی کا ایک دروازہ ہوگا قیامت کے دن اس نیکی کرنے والے کو متعلقہ دروازہ سے بلایا جائے گا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان یہ ہوگی کہ آپ کو ہر دروازہ سے بلایا جائیگا جیسا کہ مسند امام احمد میں حدیث پاک ہے :

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِکُلِّ أَہْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُدْعَوْنَ بِذَلِکَ الْعَمَلِ وَلأَہْلِ الصِّیَامِ بَابٌ یُدْعَوْنَ مِنْہُ یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ.فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ أَحَدٌ یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الأَبْوَابِ کُلِّہَاقَالَ نَعَمْ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ یَا أَبَا بَکْرٍ۔

��� حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نیک عمل کرنے والے کے لئے جنت کا ایک دروازہ ہے ، وہ اسی عمل کے دروازہ سے بلائے جائیں گے ۔اور روزہ داروں کے لئے ایک دروازہ ہے ، ا سکا نام ’’ریان ‘‘ ہے وہ (روزہ دار) اسی دروازہ سے بلائے جائیں گے۔توحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بلایا جائیگا، حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :ہاں !اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اے ابوبکر تم انہی لوگوں میں سے ہو۔

(مسند الامام احمد ، مسند ابی ہریرۃ،حدیث نمبر: 10054)

���� یہی وجہ تھی کہ حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :

مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی عَتِیْقٍ مِنَ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اَبَابَکْرٍ۔

ترجمہ:جس شخص کو یہ بات خوش کرتی ہو کہ دوزخ سے آزاد کسی شخص کو دیکھے تو وہ ابوبکر کو دیکھ لے ۔

(المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابۃ، حدیث نمبر4378 ۔ تاریخ دمشق ، ج13ص78)

صدیق اکبر کے لئے تمام اہل ایمان کا ثواب

���� آپ کے ایمان کی اولیت کا اس حدیث سے بھی استدلال کیا جاسکتا ہے جسے خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم سے روایت کی ، آپ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو فرمایا: 

یا ابابکر ان اللہ اعطانی ثواب من آمن لی منذخلق آدم الی ان بعثنی ، وان اللہ اعطاک یا ابابکر ثواب من آمن بی منذ بعثنی الی ان تقوم الساعۃ ۔

اے ابوبکر!آدم علیہ السلام سے لے کر میری بعثت تک جوکوئی بھی مجھ پر ایمان لایا ہرایک کا ثواب اللہ تعالی مجھے پہنچائے گا اور اے ابوبکر! میری بعثت سے تاقیامت تمام ایمان داروں کا ثواب تمہیں ملے گا۔(تاریخ بغداد ،ج4،ص252)

���� امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے:

عن ہزیل بن شرحبیل قال:قال عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ لو وزن إیمان أبی بکر بإیمان أہل الأرض لرجح بہم۔

ترجمہ:حضرت ہزیل بن شرحبیل رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا:اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ایمان کو اہل زمین کے ایمان سے وزن کیا جائے تو ضرور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی ان تمام پر غالب آجائیں گے۔

(شعب الایمان،باب القول فی زیادۃ الإیمان ونقصانہ ، وتفاضل أہل الإیمان فی إیمانہم،حدیث نمبر:35)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا ایثار وقربانی

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی جامع الکمالات شخصیت جس طرح میدان عمل میں پیش پیش و مقدم رہی اسی طرح دیگر احوال وکیفیات میںآپ کی کوئی نظیر ومثال نہیں آپ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنے جذبۂ عقیدت کا جس طرح اظہار کیا ؛ اسے بجالانااور اس پر عمل کرنا تو درکنار اسے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں لایا جاسکتا، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے کسی معاملہ میں سبقت نہیں کرسکتا ،چنانچہ صحاح ستہ میں حدیث پاک ہے ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں : حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے حکم فرمایا ، اتفاق ایسا ہو ا کہ اس وقت میرے پاس کافی مال تھا ، میں سوچنے لگا کہ آج میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سبقت کر جاؤنگا، اس ارادہ سے میں نے اپناآدھا مال بارگاہ رسالت میں پیش کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے پاس جو کچھ تھا وہ سب بارگاہ نبوی میں پیش کردیا ، چنانچہ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر! گھر والوں کے لئے کیاچھوڑآئے ہو؟ تو میں نے عرض کیا :آدھا مال چھوڑ آیا ہوں ،پھر حضورپاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :آپ اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑآئے ہو؟ تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :

اَبْقَیْتُ لَہُمُ اللَّہَ وَرَسُولَہُ قُلْتُ وَاللَّہِ لاَ أَسْبِقُہُ إِلَی شَیْءٍ أَبَدًا۔

میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ او راس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑآیا ہوں ، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :میں کہنے لگا ، خدا کی قسم !میں ان سے کسی چیز میں آگے نہیں بڑھ سکتا ۔

(جامع الترمذی ، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی بکر وعمر ، حدیث نمبر:4038۔ سنن ابی داود ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فی الرخصۃ فی ذلک۔۔۔ حدیث نمبر:1680۔المستدرک علی الصحیحین،کتاب الزکوۃ ، حدیث نمبر:1457)

���� حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ صرف اپنے جذبۂ عقیدت کا اظہار کیا ،بلکہ امت کو یہ پیغام دیا اور اس بات کا اعلان کردیا کہ گھر میں مال ودولت ختم ہوجائے توکوئی بات نہیں ،ہم دربار رسول کے دربان ہیں ،ہماری دیکھ بھال ونگرانی، حبیب خداکی نظرعنایت اورکرم نوازی پر ہے ، دنیوی مال ودولت ہو یا اشیاء خورد ونوش سب کچھ اسی داتاکی مملکت سے ملتا ہے�� ؂

پروانے کو چراغ ہے ‘بلبل کو پھول بس

صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

���� چنانچہ آپ نے حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا کہ سارا مال آپ کی خدمت میں حاضر ہے اور گھر میں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر آیا ہوں ، جب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی یہ عقیدت دیکھی تو کہدیا کہ میں کسی معاملہ میں آپ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔

���� فرش زمیں پر صحابۂ کرام آپ کی سخاوت وقربانیوں کا تذکرہ کرتے رہے اور عرش بریں پر رب العالمین نے خود ملائکہ کے درمیان آپ کے جذبۂ ایثار پر اپنی خوشنودی کا اعلان فرمایا،چنانچہ تفسیر قرطبی میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت مذکور ہے :

وعن ابن عمر قال کنت عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعندہ أبو بکر وعلیہ عباء ۃ قد خللہا فی صدرہ بخلال فنزل جبریل فقال : یا نبی اللہ! ما لی أری أبا بکر علیہ عباء ۃ قد خللہا فی صدرہ بخلال ؟ فقال : "قد أنفق علی مالہ قبل الفتح" قال : فإن اللہ یقول لک اقرأ علی أبی بکر السلام وقل لہ أراض أنت فی فقرک ہذا أم ساخط ؟ فقال رسول صلی اللہ علیہ وسلم : "یا أبا بکر إن اللہ عز وجل یقرأ علیک السلام ویقول أراض أنت فی فقرک ہذا أم ساخط" ؟ فقال أبو بکر : أأسخط "علی ربی ؟ إنی عن ربی لراض! إنی عن ربی لراض! إنی عن ربی لراض! قال : "فإن اللہ یقول لک قد رضیت عنک کما أنت عنی راض" فبکی أبو بکر فقال جبریل علیہ السلام : والذی بعثک یا محمد بالحق ، لقد تخللت حملۃ العرش بالعبی منذ تخلل صاحبک ہذا بالعباءۃ۔

حضرت سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپناسارا مال ومتاع راہ خدا میں خرچ کرنے کے بعد ایک پیوندزدہ عباء پہن کر حاضربارگا ہ ہوئے جس میں گنڈیوں کی جگہ کانٹے لگے ہوئے تھے ، اسی لمحہ طائر سدرہ جبریل امین پیغامِخداوندی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالی صدیق اکبر کو سلام فرماتاہے ،آپ اُن سے دریافت کریں کہ وہ اس فقر کی حالت میں اپنے رب سے راضی ہیں کہ نہیں ؟حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب حضرت صدیق سے فرمایا تو آپ بے اختیارروپڑے اور کہنے لگے میں اپنے رب سے ناراض کیسے ہوسکتا ہوں ؟ بے شک میں اپنے رب سے راضی ہوں ،اس کو تین بار دہراتے رہے ۔حضرت جبریل نے عرض کیا :حضور! بیشک اللہ تعالی فرماتاہے ؛میں اُن سے راضی ہوچکا ہوں جس طرح وہ مجھ سے راضی ہے۔ اور اللہ کے حکم سے تمام حاملین عرش بھی وہی لباس پہنے ہوئے ہیں جوآپ کے صدیق نے پہنا ۔

(تفسیر قرطبی ،سورۃ الحدید ، آیت نمبر 10)

اللہ تعالیٰ اور حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عقیدت کے معاملہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عالم تھا کہ دوسرے صحابہ اس فضیلت کو نہ پاسکے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ کی مضبوط وابستگی او رکامل عقیدت کا اندازہ اس حدیث پاک سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو صحیح بخاری شریف میں مروی ہے : واقعہ یوں ہو ا کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم صلح کے ایک معاملہ میں قبیلہ بنی عمر و بن عوف کے پاس تشریف لے گئے ، اس دوران نماز کا وقت آگیا ، مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور امامت کرنے کے لئے گزارش کی ،چنانچہ اقامت کہی گئی او ر آپ امامت کرنے لگے ،اسی اثنا میں رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف فرماہوئے آپ کی نماز کا یہ حال تھا کہ کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے ، صحابۂ کرام آپ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد کا احساس دلانے لگے ، بالآخر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرماہوچکے ہیں ، فورًا مصلے سے پیچھے ہٹے اورصف میں شامل ہوگئے ، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو امامت کا حکم بھی فرمایا!لیکن آپ پیچھے ہٹ گئے ، پھرامام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امامت فرمائی ، نماز مکمل ہونے کے بعد حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

یَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ . فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا کَانَ لاِبْنِ أَبِی قُحَافَۃَ أَنْ یُصَلِّیَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔

ترجمہ:اے ابوبکر !میرے حکم دینے کے باوجود تمہیں اپنی جگہ قائم رہنے سے کس چیز نے روکا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے نماز اداکرسکے۔

(صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، با ب من دخل لیؤم الناس، حدیث نمبر: 684)

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے نماز میں نہ صرف غیر خدا کا خیال لایا بلکہ عین حالت نماز میں حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا، ادب بجالایا ، پیچھے ہٹ گئے ، او رپوچھنے پر عرض کیا کہ بات کچھ اور نہیں تھی ، میرے ادب نے گوارا نہ کیا کہ امام الانبیاء کے آگے نماز پڑھ سکوں ، نہ ہی رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے اس عمل پرنکیر فرمائی اور نہ آپ کے اس جذبۂ عقیدت کوناپسندکیاگویا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عملی طور پر امت کو یہ پیغام دیا کہ عبادتوں میں کمال عقیدت اور عنصرادب کو شامل رکھناہی قبولیت عمل کی دلیل ہے۔

خیر البشر بعد از انبیاء����

عقائد ، عبادات او رمعاملات ،حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے جس گوشہ پر نظر ڈالی جائے،اور جس پہلو کو دیکھا جائے آپ فضل وکمال کی بلندیوں پر فائز ہیں اوریہ بات بھی مسلم ہے کہ سب صحابۂ کرام آپ کے فضائل وکمالات کے معترف تھے اور آپ کی عظمت کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے ،چنانچہ اس پر مولائے کائنات حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کا ارشادشاہد ہے:

عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ ہَذِہِ الأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُو بَکْرٍ۔

حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہکوفرماتے ہوئے سنا: حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعداس امت میں سب سے بہتر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔

(مسند الامام احمد،مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،حدیث نمبر:845۔مصنف بن ابی شیبۃ،ج7،ص475)

���� چنانچہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال باکمال کی کیفیات شروع ہوئیں تو حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں امامت کا حکم فرمایا ،اس وقت آپ نے سترہ(17)نمازوں کی امامت فرمائی۔

خلافت صدیقی پر تمام صحابہ کرام کا اتفاق

���� وصال نبوی کے بعد جب خلافت کا مسئلہ درپیش ہوا تو مہاجرین وانصا ر تمام صحابہ کرام نے متفقہ طور پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفۃ المسلمین منتخب کیا اور آپ کے دست مبارک پر بیعت کی ۔

���� اس تفصیل کوعلامہ یوسف بن اسمعیل نبہانی علیہ الرحمہ نے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

فایکم تطیب نفسہ ان یزیلہ عن مقام اقامہ فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا کلہم : کلنا لا تطیب انفسنا نستغفراللہ ۔

ترجمہ:تم میں وہ کون ہے، جو یہ چاہتا ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اس مقام سے ہٹادے ، جس پر انہیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فائز فرمایا توتمام صحابہ کرام نے کہا : اللہ معاف کرے! ہم میں کوئی اس بات کوگوارا نہیں کرسکتا۔

���� حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :مہاجرین کے ساتھ انصاری صحابہ کرام نے بھی آپ کی خلافت پر اتفاق کیا اور سبھوں نے بیعت کی ، جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیررضی اللہ عنہ سرفہر ست ہیں ۔

���� اور قابل اعتبار روایات میں یہ بات بھی آئی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بیعت لینے کے بعد تین دن تک مسلسل لوگوں سے ملاقات کرنے لگے اور ان سے کہتے کہ لوگو! کیا تم نے بیعت کرلی ہے؟ اگر اس میں کوئی رکاوٹ ہوتووہ بیعت سے دستبردار ہوجائے!،تو صحابہ کرام میں سب سے پہلے حضرت مولائے کائنات سید نا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کہنے لگے،جیسا کہ روایت ہے:

فیقوم علی رضی اللہ عنہ فی اوائل الناس یقول : لا نقیلک ولا نستقیلک ابداً قدمک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فمن یؤخرک۔

تولوگوں میں سب سے پہلے حضرت سید نا علی کرم اللہ وجہہ کہنے لگے:نہ ہم بیعت توڑیں گے او رنہ کبھی اس کا مطالبہ کریں گے، کون آ پ کو نظر انداز کرسکتا ہے جبکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مقدم کیا ہے ۔

���� جنگ جمل کے بعد حضرت عبداللہ بن الکواء نے حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ سے دریافت کیا کہ خلافت سے متعلق کیا آپ کو حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کچھ فرمایا تھا، تو آپ نے ارشا د فرمایا :

نظرنا فی امرنا فاذا الصلوٰۃ عضدالاسلام فرضینا لدنیانا بمارضی اللہ ورسولہ لدیننا فولینا الامر ابا بکر۔

ہم نے خلافت کے معاملہ میں غور وفکر کیا ، یہ بات آشکار ہوئی کہ نماز اسلام کا اہم ستون ہے ،( جس کی امامت کے وہ حقدرا ٹہرے) گویا اللہ تعالی اوراس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے معاملہ میں ان سے اپنی رضامندی کا اظہار فرمایا،لہذا ہم نے دنیوی معاملات کے لئے انہیں قبول کرلیا اور خلافت کا معاملہ ان کے سپرد کردیا۔(الاسالیب البدیعۃمع شواہدالحق ، ص356)

وصال مبارک

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دو سال سات ماہ مسند خلافت پرجلوہ فرمارہے۔ (تاریخ الخلفاء،ابو بکر الصدیق)

���� آپ کا وصال مبارک شہر مدینہ منورہ میں مغرب وعشاء کے درمیان 22 جمادی الاخری 13ھ میں ہوا ، اُ س وقت آپ کی عمر شریف ترسٹھ(63) سال تھی ۔

���� آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کے جنازہ کو دربار رسالت پر لانا اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرنا ،حکم ملے تو آپ کے روضہ مبارک میں دفن کرنا،ورنہ بقیع شریف میں دفن کردینا چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو کفناکر دربار نبوی میں لے جایا گیا ، جیساکہ تفسیر رازی میں ہے :

اما ابو بکر رضی اللہ عنہ فمن کراماتہ انہ لما حملت جنازتہ إلی باب قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونودی السلام علیک یا رسول اللہ ہذا ابو بکر بالباب فإذا الباب قد انفتح وإذا بہاتف یہتف من القبر ادخلوا الحبیب إلی الحبیب۔

اب رہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی ہستی تو یہ آپ کی کرامت ہے کہ جب آپ کا جنازہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس کے سامنے رکھ کر عرض کیا گیا، یا رسول اللہ !یہ ابوبکر حاضر ہیں ،یکایک خود بخود دروازہ کھلا اور سبھوں نے اندر سے یہ آواز سنی کہ :حبیب کو حبیب کے پاس لے آؤ!۔(تفسیر کبیر،تفسیر نیشاپوری ،تفسیر رازی ،سورۃ الکہف ، آیت نمبر:9)

یہ سن کر حاضرین نے آپ کو حجرۂ مبارک کے اندر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلومیں دفن کیا۔جیسے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار رہے ،اسی طرح آ پ کو یار مزار ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

اللہ تعالی ہمیں عقائد حقہ کو مضبوطی سے تھامنے اور اعمال صالحہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور صداقت صدیقی کی برکت سے ہمیں بھی صداقت وامانت کاخوگر بنائے!

آمِیْن بِجَاہِ سَیِّدِنَا طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللہُ تَعَالَی وَبَارَکَ وَسَلّمَ عَلَی خَیْرِ خَلْقِہ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَی آلِہِ وَصَحْبِہِ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

www.ziaislamic.com

 
     
 
 
 
  BT: 284   
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فضائل و مناقب
...............................................
  BT: 283   
عالمی یوم خواتین
...............................................
  BT: 282   
حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کی اصلاحی وتجدیدی خدمات
...............................................
  BT: 281   
ویلنٹائن ڈے ایک مخرب اخلاق رسم
...............................................
  BT: 280   
حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ شخصیت'عقائد وتعلیمات
...............................................
  BT: 279   
سال نو کا پیغام اہل اسلام کے نام
...............................................
  BT: 278   
بعثت خیرالانام کاآفاقی پیغام
...............................................
  BT: 277   
ولادت باسعادت، خصائص وامتیازات
...............................................
  BT: 276   
امام ربانی مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شخصیت حیات وتعلیمات
...............................................
  BT: 275   
قانون اسلام کی جامعیت وآفاقیت
...............................................
  BT: 274   
واقعۂ شہادت کا پُرسوز بیان
...............................................
  BT: 273   
محبت اہل بیت وصحابہ شعارِاہل سنت
...............................................
  BT: 272   
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فضائل ومناقب
...............................................
  BT: 271   
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ،فضائل وکمالات
...............................................
  BT: 270   
زیارت روضۂ اطہر،فضائل وآداب
...............................................
  BT: 269   
قربانی فضائل ومسائل
...............................................
  BT: 268   
فضائل حج وعمرہ
...............................................
  BT: 267   
حضرت خواجہ بندہ نوازرحمۃ اللہ علیہ، شخصیت وتعلیمات
...............................................
  BT: 266   
عالمی سطح پرمسلمانوں کے حالات اورہماری ذمہ داریاں
...............................................
  BT: 265   
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ‘فضائل ومناقب
...............................................
 
   
Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights Reserved